30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قلبِ اقدس کانپ رہا تھا، حضرتِ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچ کر فرمایا: مجھے چادر اڑھا دو۔ انہوں نے آپ کو چادر اڑھا دی حتی کہ جب قلبِ اقدس سے رعب کی کیفیت جاتی رہی تو آپ نے حضرتِ خدیجہ کو سارا واقعہ بتاتے ہوئے فرمایا: مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ حضرتِ خدیجہ نے جواباً تسلی دیتے ہوئے کہا: ” كَلَّا ! وَالله مَا يُخْزِيكَ الله اَبَدًا، اِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِى الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلٰى نَوَائِبِ الْحَقِّ “ رب کی قسم ہرگز نہیں الله آپ کو کبھی غمگین نہ کرے گا کیونکہ آپ رشتہ جوڑتے ہیں، دوسروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں،ناداروں کے لیے کمائی کرتے ہیں،مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں، حق کی طرف لے جانے والوں کی مدد کرتے ہیں۔
ورقہ بن نوفل کی پیشن گوئیاں:
اس کے بعد حضرتِ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو وَرَقَہ بن نَوفل1 کے پاس لے گئیں جو حضرت خدیجہ کےچچا زاد بھائی تھے۔ وہ زمانَۂ جاہلیت میں اہل مکہ کے شرک و بت پرستی سے بیزار ہوکر عیسائی ہو گئے تھے، عِبْرانی زبان میں کتابت(لکھنے کا کام) کیا کرتے تھے اور جتنا اللہ پاک کو منظور ہوتا انجیل کو عِبْرانی زبان میں لکھا کرتے تھے، ان سے حضرتِ خدیجہ نے کہا: اے چچا کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنئے۔ ورقہ بن نوفل نے کہا: اے بھتیجے! آپ کیا دیکھتے ہیں؟ مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جو دیکھا تھا اِنہیں بتایا۔ اس پر وَرَقہ نے کہا: یہ وہی فِرِشتہ ہے جسے اللہ
1 قوی قول یہ ہے کہ ورقہ بن نوفل صحابی نہیں ہیں، انہوں نے دعوتِ اسلام کا زمانہ نہیں پایا۔ ان کے والد نوفل حضرت خدیجہ کے چچاہیں۔ نبی کریم علیہ السّلام ان کے بھتیجے نہیں مگراہلِ عرب پیار میں اپنے کم عمروں کو بھتیجا وغیرہ کہہ دیتے تھے۔ یہ اس واقعے کے وقت بہت بوڑھے اور نا بینا ہو چکے تھے۔(مرآۃ المناجیح، 8/97 ملخصاً)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع