30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہلی وحی کی کیفیت:
ان علامتوں کے بعد غارِ حرا کی تنہائیوں اور تاریکیوں میں نبوت کے آثار کیسے چمکے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سچے خواب دیکھنے کے بعد آپ تنہائی پسند ہو گئے اور غارِ حرا میں خلوت فرمانے (تنہا رہنے) لگے، مبارک گھر لوٹنے سے پہلے آپ وہاں کئی کئی راتیں ٹھہر کر عِبادت کرتے اور اس کے لئے کھانے پینے کی چیزیں ساتھ لے جاتے تھے۔ پھر حضرتِ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے اور اتنی ہی چیزیں پھر لے جاتے حتی کہ وہیں (610ءمیں)آپ پر پہلی وحی نازِل ہوئی۔ ایک دن فِرِشتے نے حاضِر ہو کر کہا:”اِقْرَاْ یعنی پڑھئے۔“ فرمایا:”مَا اَنَا بِقَارِیءٍ میں نہیں پڑھتا۔“ فِرِشتے نے آپ کو پکڑا اور گلے لگا کر خوب زور سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور کہا:” اِقْرَاْ پڑھئے۔“ آپ نے پھر وہی فرمایا کہ میں نہیں پڑھتا۔ اس نے دوبارہ گلے لگا کر خوب زور سے دبایا اور پھر چھوڑ کر کہا: ” اِقْرَاْ پڑھئے۔“ آپ نے پھر وہی جواب دیا کہ میں نہیں پڑھتا۔ اس نے تیسری بار گلے لگا کر خوب زور سے دبایا، پھر چھوڑ دیا اور کہا:
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ(۲) اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ(۳)1
ترجمہ: پڑھو اپنے ربّ کے نام سے جس نے پیدا کیا،آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا۔ پڑھو اور تمہارا ربّ ہی سب سے بڑا کریم۔
حضرت خدیجہ کا ڈھارس دینا:
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم وحی لے کر اس حالت میں واپس ہوئے کہ
1 پ 30،العلق: 1تا3
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع