30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عمر مبارک جب 40برس کے قریب پہنچ گئی تو نبوت کے آثار چمکنا اور ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔1 اللہ رب العالمین جو چاہے وہ لمحہ بھر میں ہوجائے لیکن اس کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ وہ چیزوں کو آہستہ آہستہ کمال تک پہنچاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کے لئے40 سال کی عمر ”سِنِ کمال“ ہے، یوں کہ اسی عمر میں جسمانی نشو و نما، ذہنی قوتیں اور عملی صلاحیتیں درجَۂ کمال پر ہوتی ہیں۔2 اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس عمر تک ان اوصاف کے ساتھ ساتھ اخلاق، کردار اور سیرت کی پاکیزگی میں بھی بے مثل و بے مثال تھے۔ یوں وہ وقت قریب آنے لگا جس کا انتظار تھا۔
غارِ حرا میں عبادت:
مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس عمر میں مخلوق سے دور ہو کر خالق کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ آپ شہرِ مکہ اور اس کی رونقوں کو چھوڑتے اور کچھ فاصلے پر موجود غارِحرا3 کو اپنے مبارک وجود کی خوشبو سے مہکاتے۔ کھانے پینے کی ضروری اشیاءکبھی خود ساتھ لے جاتے،کبھی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پہنچا دیتیں، آپ کئی کئی دن اس مقدس غار میں بسر کر دیتے،کبھی کبھی تو پورا پورا مہینا وہاں گزار دیتے۔4
1 فقہ السیرۃ، ص 60
2 تفسیر کبیر، پ 26، الاحقاف، تحت الآیۃ:15، 10/18
3 غارِ حرا مسجدِ حرام سے تقریباً 4 کلومیٹر کے فاصلےپر جبلِ نور میں واقع ہے۔ پہاڑ کی اونچائی 634 میٹر جبکہ غارکی لمبائی چار اور چوڑائی تقریباً ڈیڑھ میٹر ہے۔ اس کا رخ ایسا ہے کہ سارا دن سورج اندر نہیں جھانک سکتا، فلک بوس عمارتیں بننے سے پہلے غار سے براہِ راست بیت اللہ کا نظارہ ممکن تھا۔ اسی غار سے نورِ ہدایت کا چشمہ پھوٹا جس سے دنیا روشن ہوئی۔ یہ غار اپنی اصلی حالت میں برقرار ہے اور عاشقانِ رسول کی ا ٓنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
4 بخاری، 4/401، حدیث:6982-الروض الانف، 1/399
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع