30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَزَّوَجَلَّ لوگوں کا حساب فرمادے ، بے شک آج کے دن تم پر نہ کوئی خوف ہے اورنہ تم غمگین ہوگے۔ ‘‘
(تاریخ بغداد ، الرقم : ۴۴۸۰ داؤد بن ابراھیم بن داؤد…الخ ، ج۸ ، ص۳۷۴)
اللہ عَزَّوَجَل َّکے خاص بندے :
(۱)…حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ نبی ٔکریم ، ر ء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بعض بندوں کواپنی رضا کے لئے لوگوں کی حاجات پورا کرنے کے لئے خاص کرلیا ہے اور اس نے عہد فرمایا ہے کہ انہیں عذاب نہ دے گا ، پھرجب قیامت کا دن ہوگاتوانہیں نور کے منبروں پر بٹھایا جائے گا ، وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ہم کلای کاشرف پارہے ہوں گے جبکہ لوگ حساب میں ہوں گے۔ ‘‘
(فیض القدیر ، حرف الھمزہ تحت الحدیث۲۳۵۰ ، ج۲ ، ص ۶۔ ۶۰۵)
(۲)…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ اللہکے پیارے حبیب ، حبیب لبیبعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ ذیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ لوگ گھبرائے ہوئے اپنی حاجات ان کے پاس لاتے ہیں ، یہ بندے قیامت کے دن عذابِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ سے امن میں ہوں گے۔ ‘‘ (کنز العمال ، کتاب الزکاۃ ، الحدیث ۱۶۴۶۱ ، ج۶ ، ص ۱۹۰)
حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے حضورنبی ٔپاک ، صاحبِ لَوْلاک ، سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ ذیشان ہے : ’’ہجرت کرنے والوں کے لئے سونے کے منبر ہیں ، وہ قیامت کے دن اُن پر بیٹھیں گے اور گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے ۔ ‘‘
(فیض القدیر ، حرف الام ، تحت الحدیث۷۳۵۳ ، ج۵ ، ص ۳۷۳)
علم سے گفتگو اور حلم سے خاموشی :
حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ارشاد فرماتے ہیں : ’’سات اشخاص قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سایۂ رحمت میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا(۱) وہ شخص جو اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کرے اورکہے کہ’’ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے تجھ سے محبت کرتاہوں۔ ‘‘ اوردوسرا بھی اسی کی مثل کہے(۲) وہ شخص جواللہ عَزَّوَجَلَّ کاذکرکرے تو خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے اس کی آنکھیں اشکبار ہوجائیں (۳)وہ شخص جو اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ کرے تو اُسے بائیں سے چھپائے (۴) وہ شخص جسے کوئی منصب وجمال والی عورت اپنی طرف دعوتِ(گناہ)دے اوروہ کہے کہ ’’میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہوں۔ ‘‘(۵)وہ شخص جس کا دل مساجد سے محبت کی وجہ سے انہی میں لگار ہے(۶)وہ شخص جواوقاتِ نمازکے لئے سورج کی رعایت کرتاہو(یعنی وقت میں نمازپڑھتاہو) اور (۷) وہ شخص کہ اگر بولے تو علم کی بات کرے اوراگرخاموش رہے تو حلم کے سبب خاموش رہے۔ ‘‘
(کتاب الزھد لامام احمد بن حنبل ، الحدیث ۸۱۹ ، ص ۱۷۳)
حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی ٔ مُکَرَّم ، نُورِ مُجسَّم ، رسولِ اَکرم ، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے : ’’سات اشخاص کواللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا (۱)…وہ شخص جس کا دل مسجدوں میں لگا رہے (۲)…وہ شخص جسے کوئی منصب والی عورت دعوتِ(گناہ)دے اوروہ کہے کہ ’’میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہوں۔ ‘‘ (۳)…وہ شخص جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ چیزوں سے اپنی آنکھ کو بچایا(۴)…وہ آنکھ جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں پہرادیااور(۵)… وہ آنکھ جواللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے روئے۔ ‘‘([1])
(جامع الصغیر ، الحدیث۴۶۴۷ ، ص ۲۸۵)
[1] یہاں صرف پانچ افرادکابیان ہواجبکہ ابتداء میں سات کاذکرتھا۔ ’’جامع صغیر‘‘ کی روایت میں باقی دوکاذکرموجودہے اوروہ یہ ہیں ’’وہ دواشخاص جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے باہم محبت کرتے ہیں۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع