30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گا) کے تحت فرماتے ہیں کہ’’ یہ روایت ظاہری طورپرسارے مؤمنین کے لئے عام ہے ، لیکن اس سے مراد کامل الایمان مؤمن ہیں یا وہ جوسایۂ عرش کے لئے کوشش کرے جیساکہ
حدیث پاک میں ہے : ’’سات اشخاص عرش کے سائے میں ہوں گے ۔ ‘‘اورجیساکہ ایک روایت میں ہے : ’’بندہ اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا ۔ ‘‘ اوریوں ہی نیک اعمال بجالانے والے اپنے اعمال کے سائے میں ہوں گے اور یہ تمام عرش کے سائے میں ہوں گے ، وَاللہُ اَعْلَم ۔ ‘‘
حضرت مُصنِّفرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِکی تحقیق
(علامہ سیوطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں )’’میں سمجھتاہوں کہ ابتدائی احادیث مبارکہ جن میں سایۂ عرش کی صراحت ہے انہیں اِن احادیث کے ساتھ ملادینا چاہئے جن میں سایۂ عرش کی تصریح تونہیں مگراس کی طرف واضح اشارہ موجودہے جیسے نور کے منبر، کرسیوں اور مشک کے ٹیلوں پر بیٹھنے والے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حضورحاضر ہونے والے ، اس کا سب سے زیادہ قرب پانے والے اورقیامت کے دن اس کی حفظ و امان میں رہنے والے ۔
اورپھریہ کہ ان لوگوں کا سایۂ عرش میں ہونا ان احادیث مبارکہ کی وجہ سے ظاہر ہے جن میں ’’رضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کے لئے باہم محبت کرنے والوں ، عادل حکمران، روزہ دار، سودوزناء سے بچنے والوں اور عیادت کرنے والوں کاذکرہے ۔ اوروہ احادیث مبارکہ جن میں سایۂ عرش کی طرف اشارہ ہے انہی میں سے یہ بھی ہیں ۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ باقرینہ ہے : ’’قیامت کے دن تین اشخاص مُشک کے ٹیلوں پر ہوں گے ، انہیں اَلْفَزَعُ الْاَکْبَر(یعنی بڑی گھبراہٹ) خوف زدہ نہ کرے گی(۱)وہ شخص جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہو(۲)وہ شخص جوہر دن اوررات میں اذان دیتا ہو اور(۳) وہ غلام جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اپنے آقا کا حق اد اکرے ۔ ‘‘(جامع الترمذی ، ابواب البر و الصلۃ ، باب ماجاء فی فضل المملوک الصالح ، الحدیث ۱۹۸۶، ص۱۸۵۱، بدون لا یھولھم الفزع الاکبر)
اَلْفَزَعُ الْاَکْبَرسے بے خوفی :
حضرت سیِّدُناابوسعیدخدری اورحضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ ہم نے سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب سینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کوارشادفرماتے ہوئے سنا : ’’قیامت کے دن تین اشخاص سِیاہ مُشک کے ٹیلے پر ہوں گے ، انہیں اَلْفَزَعُ الْاَکْبَر (یعنی بڑی گھبراہٹ) خوف زدہ نہیں کرے گی اور نہ ہی ان کا حساب ہو گا(۱) وہ شخص جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے قرآن پڑھے اور کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہو(۲) وہ شخص جورضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کے لئے کسی مسجد میں اذ ان دے کرلوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف بلائے اور(۳) وہ شخص جو دنیا میں غلامی میں مبتلا ہوا مگرغلامی نے اُسے طلبِ آخرت سے دورنہ کیا ۔ ‘‘(شعب الایمان ، الحدیث ۲۰۰۲ ، ج۲، ص ۳۴۸)
حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوعاًروایت ہے کہ ’’جب قیامت کا دن ہوگاتوسونے کی کرسیاں لائی جائیں گی جوموتیوں اور یاقوت سے جڑی ہوں گی، اس پرباریک اورسبز ریشمی کپڑے بچھے ہوں گے پھر ان پر نور کے گنبد بنائے جائیں گے اوریہ ندا کی جائے گی : ’’مؤذنین کہاں ہیں ؟‘‘پس وہ کھڑے ہوں گے اور اُن کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی ان سے کہا جائے گا : ’’ اِن گنبدوں کے نیچے ان کرسیوں پر بیٹھ جاؤ یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ لوگوں کا حساب فرمادے ، بے شک آج کے دن تم پر نہ کوئی خوف ہے اورنہ تم غمگین ہوگے ۔ ‘‘(تاریخ بغداد ، الرقم : ۴۴۸۰ داؤد بن ابراھیم بن داؤد…الخ ، ج۸، ص۳۷۴)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خاص بندے :
(۱)…حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ نبی ٔکریم، ر ء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع