30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گے ‘‘پوچھاجائے گا : ’’تم نے کیاعمل کئے ؟‘‘ وہ عرض کریں گے : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !تو نے ہمیں آزمائش میں مبتلا کیا تو ہم نے صبرکیااورحکمرانی وسلطنت کاوالی ہمارے علاوہ دوسروں کو بنادیا ۔ ‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا : ’’تم نے سچ کہا ۔ ‘‘یا اسی کی مثل ارشادفرمائے گا(یہ راوی کا شک ہے )پھروہ دوسرے لوگوں سے بہت پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے اورحساب کی سختیاں حکمرانوں اورصاحبِ سلطنت لوگوں پرباقی رہ جائیں گی ۔ ‘‘ صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی : ’’اس دن مؤمنین کہاں ہوں گے ؟‘‘ حضورنبی ٔکریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ ان کے لئے نور کے منبررکھے جائیں گے اوراُن پربادلوں سے سایہ کیاجائے گا ۔ ‘‘(صحیح ابن حبان ، باب وصف الجنہ واھلھا ، الحدیث ۷۳۷۶، ج۹، ص ۲۵۳)
حضرت سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشادفرمایا : ’’سورج قیامت کے دن لوگوں سے بہت زیادہ قریب ہوگاحتّٰی کہ ان کے سر وں سے ایک یادوکمان کے فاصلے پر آجائے گا، اس دن کسی کے بدن پر پھٹے پرانے کپڑے کا ایک ٹکڑاتک نہ ہو گا ۔ مگراس دن کسی مؤمن مرداور عورت کاسِتر دکھائی نہ دے گا اورنہ ہی اُس دن کسی مؤمن مرداورعورت کوسورج کی گرمی نقصان پہنچائے گی جبکہ باقی لوگوں ۔ یاارشادفرمایا-کافروں کو پیساجائے گا تو اُن کے پیٹ ابلنے اور جوش مارنے کی آوازیں نکالیں گے ۔ ‘‘(الزھد لابن المبارک ، اول السادس عشر ، الحدیث ۳۴۷، ص۱۰۰)
فرامینِ صحابہ رَضِیَ اللہُ عَنْہمکی شرح :
(علامہ سیوطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں )ان آثاریعنی فرامینِ صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہم سے ظاہرتویہی ہوتا ہے کہ قیامت کے دن تمام مسلمان سائے میں ہوں گے ، لیکن ہونایہ چاہئے کہ یہ فضیلت متقی وپرہیزگارمسلمانوں کے ساتھ خاص ہواورمجھے اس کے متقین کے ساتھ خاص ہونے پر ایک حدیث بھی ملی ہے ۔ چنانچہ ، حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمان عالیشان ہے : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جنَّات کو تین اقسام پر پیدا فرمایاہے (۱)ایک قسم سانپ، بچھو اور زمین کے کیڑے مکوڑے ہے (۲)دوسری قسم فضامیں ہواکی ماننداڑنے والی ہے اور (۳)تیسری قسم وہ کہ جن پر حساب و عقاب ہوگا ۔ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انسانوں کو بھی تین اقسام پر پیدا فرمایاہے (۱)ایک وہ کہ جانوروں کی طرح ہیں جن کے بارے میں یہ ارشادِباری تعالیٰ ہے : ’’ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا ۔ ۔ الآیۃ ۔ ترجمۂ کنز الایمان : وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں ۔ (پ۹، الاعراف : ۱۷۹)(۲) دوسرے وہ جن کے جسم تو بَنی آدم کے اجسام کی طرح ہیں مگران کی روحیں شیاطین کی ارواح کی مثل ہیں اور (۳)تیسرے وہ ہیں جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سایۂ رحمت میں ہوں گے جس دن اُس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‘‘ (کنزالعمال، کتاب خلق العالم ، الحدیث ۱۵۱۷۵، ج۶، ص ۵۶)
(علامہ سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مزیدفرماتے ہیں )مذکورہ حدیث پاک سے زیادہ واضح وہ روایت ہے جوحضرت سیِّدُناابوموسیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں : ’’ سورج(بروزِقیامت) لوگوں کے سروں کے اوپر ہوگااوراُن کے اعمال ان پر سایہ کریں گے یا ان کے ساتھ ہوں گے ۔ ‘‘(جامع العلوم والحکم ، تحت الحدیث السادس والثلاثون ، ص۴۲۴)
سوال : اس حدیث پاک سے ظاہر ہوتا ہے کہ سایہ ، عرش کا نہیں ہوگابلکہ بندے کے اعمال کا ہوگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
جواب : قیامت کے دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگااور اعمال کی طرف سائے کی جونسبت کی گئی ہے وہ سبب ہونے کے اعتبارسے ہے ۔ (یعنی ان اعمال کے سبب انہیں عرش کا سایہ نصیب ہو گا ۔ )رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ
امام قرطبی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِکی شرح :
امام قرطبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی اپنی کتاب’’التذکرۃ‘‘میں حضرت سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے فرمان(کوئی مؤمن مردیاعورت سورج کی گرمی نہ پائے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع