30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث عبدالرحمن بن قتادہ ، الحدیث ۱۷۶۷۳ ، ج۶ ، ص۲۰۵)
شہداء کی اقسام اوران کے فضائل :
(۱)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی ٔمُکَرَّم ، نُورِ مُجسَّم ، رسولِ اَکرم ، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ ذیشان ہے : ’’شہداء کی تین اقسام ہیں (۱)وہ شخص جواپنے جان و مال کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خلوص دل سے نکلے ، وہ نہ تو لڑائی کاارادہ رکھتاہو اورنہ ہی خودقتل ہونا چاہے بلکہ صرف مسلمانوں کی تعدادمیں اضافہ کرناچاہتاہے پس اگر وہ شخص( طبعی موت) مرجائے یا قتل ہوجائے تواس کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے ، اسے عذاب قبر سے محفوظ رکھا جائے گا ، وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں ہوگا ، حورِ عین(یعنی بڑی آنکھوں والی) سے نکاح کرے گا اور اس کے سر پر وقاراورجنت کا تاج سجایاجائے گا(۲)وہ شخص جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاطلب کرتے ہوئے اپنے جان و مال کے ساتھ نکلے اوریہ ارادہ رکھتا ہو کہ کفارکو قتل کرے مگر خود شہید نہ ہو پس اگر یہ شخص فوت ہوجائے یا قتل کردیا جائے تووہ بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کے قریب ہوگا اورسچ کی مجلس میں قوت والے بادشاہ کے حضورحاضرہوگا(۳)وہ شخص جو خالص اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے اپنے جان و مال کے ساتھ اس ارادے سے نکلے کہ(کفارکو) قتل کرے اور شہید ہوجائے پس اگر یہ شخص فوت یا شہید ہوجائے تو قیامت کے دن اپنی تلوار بلندکرکے کندھے پررکھے ہوئے آئے گا جبکہ دیگرلوگ گھٹنوں کے بل بیٹھے یہ کہتے ہوں گے : ’’کیاہمیں جگہ نہیں دی جائے گی۔ ‘‘پھر وہ (مذکورہ تینوں اشخاص)عرش کے نیچے موجود نور کے منبروں پرآکر بیٹھیں گے اور دیکھیں گے کہ لوگوں کے درمیان کس طرح فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ‘‘
(مجمع الزوائدکتاب الجہاد ، باب ماجاء فی الشھادۃ وفضلھا ، الحدیث۹۵۱۲ ، ج۵ ، ص۵۳۱)
(۲)…حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ارشادفرمایا : ’’شہداء قیامت کے دن سایۂ عرش کے نیچے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں گنبدوں اور باغات میں ہوں گے۔ ‘‘( سیر اعلام النبلاء ، بزید بن التستری ، ج۷ ، ص۲۲۲)
(۳)…حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہیکہ نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَر ، دو جہاں کے تاجْوَر ، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ ذیشان ہے : ’’ قیامت کے دن عرشِ رحمن عَزَّوَجَلَّ کے سب سے زیادہ قریب وہ مؤمن ہوگا جسے ظلماًقتل کیاگیاہوگا ، اس کا سراس کے دائیں جانب اور اس کا قاتل بائیں طرف ہوگاجبکہ اس کی رگوں سے خون بہہ رہاہو گااور وہ عرض کرے گا : ’’ اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم میں قتل کیاتھا۔ ‘‘ (المعجم الکبیر ، الحدیث ۱۲۵۹۷ ، ج۱۲ ، ص۸۰)
تعلیمِ قرآن پاک پر مغفرت کی بشارت :
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے جو مرفوعاًروایت ہے جس میں یہ دعاہے ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !(قرآن کریم)سکھانے والوں کی مغفرت فرما ، اُن کی عمریں طویل کردے اور ان کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرما کہ بے شک یہ تیری اتاری ہوئی کتاب (یعنی قرآنِ حکیم )کی تعلیم دیتے ہیں۔ ‘‘ (الموضوعات ، حدیث فی الدعا للمعلمین ، ج۱ ، ص ۲۲۱)
سونے کے منبراورچاندی کے گنبد :
حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مرفوعاً روایت ہے کہ ’’جب قیامت کا دن ہوگا تو سونے کے منبر رکھے جائیں گے جن پر چاندی کے گنبد ہوں گے ، ان میں ہیرے ، یاقوت اور زمرد جَڑے ہوں گے اور اس کی چادریں باریک اورسبز ریشم کی ہوں گی پس علماء کرام (کَثَّرَھُمُ اللہ تَعَالٰی)کو بلا کر اُن پر بٹھایا جائے گا پھراللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ایک منادی ندادے گا : ’’کہاں ہیں وہ جورضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے اُمتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک علم کی باتیں پہنچاتے تھے ، اِن منبروں پر بیٹھو! تم پر کوئی خوف نہیں حتّٰی کہ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ ‘‘ (حلیۃ الاولیاء ، الحدیث ۱۰۵۹۴ ، ج۷ ، ص ۳۰۰)
امام دارقطنی علیہ رحمۃاللہ القوی کی روایت میں ’’ نور کے منبر‘‘ کا ذکر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع