30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کامل وضو کرتے ہیں ، میرے ذکر کی طرف اس طرح آتے ہیں جس طرح پرندہ اپنے گھونسلے کی طرف آتاہے ، میری حرام کردہ اشیاء کو حلال ٹھہرانے پر اس طرح غضب کرتے ہیں جس طرح چیتا لڑائی کے وقت غضب کرتاہے اور میری محبت کے ایسے دلدادہ ہوتے ہیں جس طرح بچہ لوگوں کی محبت کی وجہ سے محبت کرتا ہے۔ ‘‘ (کتاب الزھد للامام احمد بن حنبل ، الحدیث۳۸۹ ، ص۱۱۰)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )’’امام بیہقیعلیہ رحمۃاللہ القوی نے حضرت مالک بن دینار علیہ رحمۃاللہ الغفَّار سے اسی کی مثل ایک روایت بیان کی ہے۔
حضرت سیِّدُنا معمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ قریش کے ایک آدمی نے بیان کیاکہ’’حضرت سیِّدُنا موسیٰ علی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی… ، پھر انہوں نے ماقبل حدیث (جوابھی اوپرگزری )ذکر کی اوراُس میں اتنا زائد تھا کہ’’وہ جو میری مسجدوں کو آباد کرتے اور صبح کے وقت اِستِغْفَار کرتے ہیں۔ ‘‘ (کتاب الزھدلا بن المبارک ، الحدیث۲۱۶ ، ص۷۱)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )’’کامل وضو ، رضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کے لئے باہمی محبت ، ظلم سے ہاتھوں کوبچانے اور مساجد کو آباد کرنے کے بارے میں بہت ساری احادیث واردہوئی ہیں جیساکہ ماقبل میں گزریں۔ اور یہ تمام روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ان میں سے ہرایک خصلت مستقل طورپر سایۂ عرش کا مستحق بنانے والی ہے کہ سب کا تقاضا یہی ہے۔ ‘‘
حضرت سیِّدُناابوادریس عائذ اللہ خولانی علیہ رحمۃاللہ الوالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہعلی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلامنے بارگاہِ رب العزت میں عرض کی : ’’اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! وہ کون ہے جوتیرے سایۂ رحمت میں ہوگاجس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ؟‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’ جن لوگوں کا میں چرچا کرتا ہوں اور وہ میرا ذکر کرتے ہیں اورجو میری رضا کے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں پس یہی لوگ میرے عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اُس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ‘‘حضرت سیِّدُناموسیٰ علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلامنے عرض کی : ’’اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! حظیرۃ القدس (یعنی جنت)میں تیرے قرب میں کون ہو گا؟‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّنے ارشاد فرمایاـ : ’’ وہ بندے جن کی آنکھیں زنا کے لئے نہیں اٹھتیں (یعنی بدنگاہی نہیں کرتے) ، اپنے مال میں سود نہیں ملاتے ، اپنے فیصلوں پررشوت نہیں لیتے ، ان کے دلوں میں حق اوران کی زبانوں پر سچ ہوتا ہے ۔ ‘‘
(حلیۃ الاولیاء ، الجز العاشر ، خزیمۃ العابد ، ج۴ ، ص ۳۱۱)
حضرت سیِّدُناعمرو بن میمون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ جب حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہعلی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلامنے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف جلدی کی تو آپ نے ایک شخص کو عرش کے سائے میں دیکھاتواس کے مقام ومرتبہ پرانہیں بہت رشک آیا اور فرمانے لگے’’یقینایہ شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں بزرگی والاہے۔ ‘‘پس آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کانام جاننے کے لئے عرض کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’ بلکہ میں تمہیں اس کا عمل بتاتا ہوں (جس کے سبب اسے یہ مقام ملا) میں نے اپنے بندوں کو اپنے فضل سے جونعمتیں عطافرمائی ہیں یہ شخص ان پر حسد نہیں کرتا تھا ، چغلی نہیں کھاتا تھااور اپنے والدین کی نافرمانی نہیں کرتا تھا۔ ‘‘ (حلیۃ الاولیاء ، الحدیث۵۱۲۱ ، ج۴ ، ص۱۶۳)
اطاعتِ والدین ، سایۂ عرش کے حصول کاذریعہ ہے :
حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس وقت حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکواپنے کلام کاشرف بخشنے کے لئے ’’کوہ طور‘‘ پر اپنا قرب عطافرمایا توآپ علیہ السلام نے ایک شخص کوعرش کے سائے میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی : ’’ اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! یہ کون ہے؟‘‘اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ وہ بندہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بندوں کو اپنے فضل سے جونعمتیں عطافرمائی ہیں یہ ان پر حسد نہیں کرتا تھا ، اپنے والدین سے اچھاسلوک کرتا تھااور چغلی نہیں کرتا تھا۔ ‘‘
(کتاب الدعاء لابی عبدالرحمن محمد بن فضیل ، الحدیث۱۰۲ ، ج۱ ، ص۲۸۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع