30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ستَّرہزار فرشتے بھیجے گاجو قیامت تک اس شخص کے لئے استغفار کرتے رہیں گے اوراِن ملائکہ کے اجر کی مثل اسے اجردیاجائے گا اورقیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے جنت میں داخل فرمائے گا ، اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گااورجنت کے پھل کھلائے گا اوروہ شخص حوضِ کوثر سے پئے گااورنہرِسَلْسَبِیْل سے غسل کرے گا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے ارشاد فرمائے گا : ’’ میں تیرا رب عَزَّوَجَلَّ ہوں اور تو میرا بندہ ہے۔ ‘‘
(الد رالمنثور ، تفسیر سورۃ الانعام ، ج۳ ، ص ۲۴۵)
ذکرِالہٰی عَزَّوَجَلّ َکی برکتیں :
حضرت سیِّدُناوہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِارشادفرماتے ہیں کہ’’ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نے بارگاہِ رب العزت میں عرض کی : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! جو اپنی زبان اور دل سے تیرا ذکر کرے اس کے لئے کیا جزاء ہے ؟‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’مَیں قیامت کے دن اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرماؤں گااور اسے اپنی رحمت میں رکھوں گا۔ ‘‘(الحلیۃالاولیاء ، الحدیث ۴۷۰۵ ، ج۴ ، ص ۴۸)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )’’امام احمدبن حنبلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اسی کی مثل ایک حدیث ، حضرت کعب الاحبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ہے ۔ ‘‘
عاجزی کرنے والوں کی خوش قسمتی :
حضرت سیِّدُنا سعیدبن مسیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضورنبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضرہوکر عرض کی : یارسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!مجھے ان لوگوں کے بارے میں خبر دیجئے جو قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قرب میں ہوں گے ۔ ‘‘رحمتِ عالم ، نورِمجسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے ، عاجزی کرنے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کثرت سے ذکر کرنے والے قربِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں ہوں گے ۔ ‘‘ اس نے پھرعرض کی : ’’یارسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!کیا یہ لوگ جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے؟ ارشاد فرمایا : ’’ نہیں۔ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’تو پھرجنت میں سب سے پہلے کون داخل ہوں گے ؟‘‘ارشادفرمایا : ’’فقراء (یعنی غریب لوگ )جنت کی طرف دوسرے لوگوں سے پہلے بڑھ جائیں گے ، جنت کے فرشتے ان کی طرف نکل آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ’’ حساب کی طرف لوٹ جاؤ(پھر جنت میں آنا)‘‘وہ کہیں گے : ’’ ہم کس چیز کا حساب دیں ؟اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !ہمارے پاس مال نہ تھا کہ اسے جمع کرکے رکھتے یا اس میں سے خرچ کرتے اورنہ ہم حاکم تھے کہ انصاف کرتے یا ظلم کرتے بلکہ ہمارے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ کاحکم آیاتو ہم نے اس کی عبادت کی یہاں تک کہ ہمیں موت نے آلیا ۔ ‘‘
(حلیۃ الاولیاء ، الحدیث ۱۱۶۸۴ ، ج۸ ، ص۱۵۲)
نیکی کی دعوت دینے والے خوش نصیب :
حضرت سیِّدُنا کعب الاحباررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تورات شریف میں حضرت سیِّدُنا موسیٰ علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف وحی فرمائی : ’’اے موسیٰ (علیہ السلام)! جس نے نیکی کاحکم دیا ، برائی سے منع کیا ا ور لوگوں کو میری اطاعت کی طرف بلایا تو اسے دنیا اور قبر میں میرا قرب اور قیامت کے دن میرے عرش کا سایہ نصیب ہوگا ۔ ‘‘ (المرجع السابق ، الحدیث ۷۷۱۶ ، ج۶ ، ص ۳۶)
مُقرَّبینِ بارگاہ کی نشانیاں :
حضرت سیِّدُنا عطاء بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی : ’’ اے میرے پروردگارعَزَّوَجَلَّ! مجھے اپنے خاص بندوں کے بارے میں خبردے جوتیرے مُقرَّبین ہیں اورجنہیں تواپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا؟‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’وہ جن کے دل پاک اورہاتھ (ظلم سے) بری ہیں ، جو میری رضا کے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں ، جب بھی میراذکرکیاجاتاہے تووہ میراذکر کرتے ہیں اور جب وہ میراذکر کرتے ہیں تومیں ان کا چرچا کرتاہوں ، دشواری کے وقت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع