30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَتَرْکُ رِبَاسُحْتٍ زِنَاوَرِعَایَۃٌ لِشَمْسٍ وَحُکْمٌ لِلْاُنَاسِ کَمِثْلِہٖ
وَصَوْمٌ وَتَشْیِیْعٌ لِمَیْتٍ عِیَادَۃٌ فَسَبَّعَ بِھَاالسَّبْعَاتُ یَازَیْنَ اَھْلِہٖ
ترجمہ : (۱)…سایۂ عرش پانے والے مزید افرادیہ ہیں ۱؎ وہ جومہمان نوازی کرے ، ۲؎ اپنے یتیم بچوں کی پرورش کرنے والی پھر ۳؎صلہ رحمی کرنے والاقربِ الہٰی عَزَّوَجَلَّمیں ہوگا۔
(۲)… اور۴؎ وہ جو یقین رکھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے ساتھ ہے ، ۵؎ بندوں سے رضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّکے لئے محبت کرنے والااور ۶؎ باوجودقدرت کے بھوک برداشت کرنے والا۔
(۳)…۷؎ دنیاسے بے رغبتی اختیارکرنے ، ۸؎مسلمانوں سے تکلیف دور کرنے ، ۹؎آنکھوں کی حفاظت کرنے ، ۱۰؎جوانی کوعبادت میں گزارنے ، ۱۱؎حضورنبی ٔکریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر درود پاک کی کثرت کرنے اور۱۲؎ سنتوں کو زندہ کرنے والے ۔
(۴)… ۱۳؎حرام کاموں ، ۱۴؎ سوداور۱۵؎ زناسے بچنے ، ۱۶؎سورج کی رعایت(یعنی وقت میں نمازادا) کرنے اور۱۷؎اپنے ذاتی فیصلے کی طرح لوگوں کے فیصلے کرنے والے۔
(۵)… ۱۸؎روزے رکھنے ، ۱۹؎جنازے کے ساتھ جانے ، ۲۰؎ مریض کی عیادت کرنے والے لوگ ، پس ۲۱؎ اے اہلِ میت کوتسلی دینے والے ! یہ سارے مل کراکیس ہوگئے ۔
حضرت مُصنّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تحقیق
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )’’پھر میں نے اس کا مزید تتبع اور جستجو کی تو عرش کاسایہ دلانے والے دیگر خصائل بھی تلاش کرلئے ۔ چنانچہ ،
محبت ِ مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اورسایۂ عرش :
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا مولیٰ علی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہیکہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ، صاحبِ معطر پسینہ ، باعثِ نُزولِ سکینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ بشارت نشان ہے : ’’ بروز قیامت سب سے پہلے عرش کا سایہ پانے والوں کے لئے خوشخبر ی ہے۔ ‘‘عرض کی گئی : ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!وہ کون لوگ ہیں ؟‘‘آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ!جولوگتمہاری پیروی کرتے اورتم سے محبت کرتے ہیں۔ ‘‘ (الفردوس بما ثورالخطاب ، الحدیث۳۵۷۶ ، ج۲ ، ص۳۴۸بدون قیل…الخ)
سورۃ الانعام اورچالیس ہزارفرشتے :
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما ارشاد فرماتے ہیں : ’’ جس نے صبح کی نماز میں ’’سورۂ انعام ‘‘کی ابتدائی تین آیات ’’یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُوْنَ‘‘ تک تلاوت کیں ، چالیس ہزار فرشتے اس کی طرف نازل ہوں گے ، جن کے اعمال کی مثل اس کے نامۂ اعمال میں اجرلکھاجائے گا اور سات آسمانوں کے اوپر سے ایک فرشتہ نیچے آئے گا جس کے پاس لوہے کا گُرز ہوگاپس اگر شیطان اس کے دل میں کوئی وسوسہ ڈالناچاہے گا تو وہ فرشتہ اس شیطان کوایک ضرب لگائے گاجس سے اس شخص اور شیطان کی درمیان ستَّر حجاب (یعنی پردے) حائل ہوجائیں گے ، پھر جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے فرمائے گا : ’’اے میرے بندے !میں تیرا رب ہوں ، میرے عرش کے سائے میں چل ، حوض کوثر سے سیراب ہو ، نہرِسَلْسَبِیْل سے غسل کر اور جنت میں بغیر کسی حساب و عذاب کے داخل ہوجا۔ ‘‘ (الدر المنثور ، تفسیر سورۃ الانعام ، ج ۳ ، ص ۲۴۵)
ستَّرفرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیں :
(۱)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب سینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ مغفرت نشان ہے : ’’جس نے نمازِ فجر جماعت سے پڑھی پھراسی جگہ بیٹھا رہا اور سورۂ انعام کی پہلی تین آیات تلاوت کیں تواللہ تبارک و تعالیٰ اس کے ساتھ ستَّر فرشتے مقرر فرمادے گاجو قیامت تک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح بیان کریں گے اور اس شخص کے لئے مغفرت کی دعاکرتے رہیں گے۔ ‘‘ (رو ح المعانی ، تفسیر سورۃ الانعام ، ج۷ ، ص ۹۸)
(۲)…حضرتسیِّدُنا ابو محمد حبیب بن عیسیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ارشافرمایاکہ’’ جس نے سورۂ انعام کی ابتدائی تین آیات کی تلاوت کی اللہ عَزَّوَجَلَّاس کے لئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع