30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
، مَحبوبِ رَبُّ العزت ، محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ ذیشان ہے : ’’ قیامت کے دن پکارنے والاپکارے گا ، ’’ کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیا میں مریضوں کی عیادت کرتے تھے۔ ‘‘پس (جب وہ حاضرہوں گے تو)انہیں نور کے منبروں پر بٹھایا جائے گا جہاں یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے شرفِ کلام حاصل کریں گے جبکہ لوگ حساب دے رہے ہوں گے۔ ‘‘ (کنز العمال ، کتاب الزکاۃ ، الحدیث۱۶۱۸۸ ، ج۶ ، ص۱۶۶)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )’’اس حدیث پاک میں سایۂ عرش پانے کی طرف اشارہ ملتاہے۔ ‘‘
(۱)…حضرت سیِّدُنامغیث بن سمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِارشادفرماتے ہیں : ’’بروزِقیامت سورج لوگوں کے سروں سے چند گزکے فاصلے پر ہوگا اور جہنم کے دروازے کھول دئیے جائیں گے ، تواس کی لُواورسخت گرمی ان کی طرف چلے گی اور جہنم کی تپش ان کی طرف بڑھے گی حتی کہ زمین پران کاپسینابہنے لگے گا جوسڑی ہوئی لاش سے زیادہ بدبودار ہوگا مگراس وقت روزہ دار عرش کے سائے میں ہوں گے۔ ‘‘ (الدر المنثور ، سورۃ البقرۃ ، تحت الایۃ ، ۱۸۴ ، ج۱ ، ص۴۴۲)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )’’یہ ایسی بات ہے جواپنی رائے سے نہیں کہی جاسکتی۔‘‘ (یعنی یہ مرفوع حدیث پاک کے حکم میں ہے)
(۲)…حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رحمتِ عالَم ، نورِمجسَّم ، شہنشاہ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمان عالیشان ہے : ’’روزے داروں کے منہ سے مشک کی خوشبوآئے گی ، بروزِقیامت ان کے لئے عرش کے سائے میں دسترخوان لگایاجائے گاتو وہ اس سے کھائیں گے جبکہ دوسرے لوگ سختی میں ہوں گے۔ ‘‘(موسو عۃ لامام ابن ابی دنیا ، کتاب الجوع ، الحدیث ۱۳۹ ، ج۴ ، ص ۱۰۲)
(علامہ سیوطیعلیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )’’اس حدیث پاک میں سائے کی طرف اشارے یا تصریح دونوں کا احتمال ہے۔ ‘‘
(۳)…حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ اللہ کے مَحبوب ، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے : ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ایک ایسا دستر خوان ہے جس پرایسی نعمتیں ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل میں خیال گزرا ، اس دسترخوان پرصرف روزہ دار ہی بیٹھیں گے۔ ‘‘ (المعجم الاوسط ، الحدیث۹۴۴۳ ، ج۶ ، ص۴۷۲)
(۴)…حضرت سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مرویہیکہ حضورنبی ٔ کریم ، رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ حقیقت بنیادہے : ’’جب قیامت کادن ہوگا تو روزے داراپنی قبروں سے اس حال میں نکلیں گے کہ اپنے روزوں کی خوشبو سے پہچانے جائیں گے ، ان کے منہ(کی بو) مشک کی خوشبوسے زیادہ پاکیزہ ہوگی ، ان کے لئے مشک کی مہرلگے ہوئے دسترخوان اور کوزے ہوں گے ، ان سے کہا جائے گا : ’’کھاؤ کہ تم نے دنیامیں بھوک برداشت کی اورپیو کہ تم پیاسے رہے ، لوگوں کو(ان کے حال پر) چھوڑدو ، اورتم آرام کرو کہ تم نے (میرے لئے )تھکاوٹ برداشت کی جبکہ لوگ آرام میں تھے ، پس روزے دار کھائیں گے اورپئیں گے اور آرام میں ہوں گے جبکہ لوگ حساب ، مشقت اورپیاس کی شدت میں ہوں گے۔ ‘‘
(الدر المنثور ، سورۃ البقرہ ، تحت الایۃ ، ۱۸۴ ، ج۱ ، ص ۴۴۲)
(۵)…حضرت سیِّدُناابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مرفوعاً روایت ہے کہ ’’روزے داروں کے لئے عرش کے نیچے ہیرے جواہرات سے مرصع سونے کا دسترخوان بچھایا جائے گا ، اس پر جنت کے انواع واقسام کے کھانے ، مشروبات اور پھل ہوں گے ، پس روزے دار کھائیں گے اور پئیں گے اور لذت حاصل کریں گے جبکہ لوگ حساب کی سختی میں ہوں گے۔ ‘‘ (الفردوس بما ثور الخطاب ، الحدیث ۸۸۵۳ ، ج۵ ، ص۴۹۰)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بیان کردہ خصلت کے علاوہ مذکورہ احادیث کریمہ سے بیس خصائل حاصل ہوئے تویہ اکیس ہو گئے۔ اب ان اکیس میں گزشتہ اٹھائیس کو ملایاتو کل انچاس خصائل ہوگئے ۔ مَیں نے ان کوایک نظم کی صورت میں جمع کیا ہے :
وَزِدْمَعَ ضِعْفِ مَنْ یُضِیْفُ وَعِزْبَۃٌ لِاِیْتَامِھَاثُّمَ الْقَرِیْبُ بِوَصْلِہٖ
وَعَلِمَ بِاَنَّ اللہ مَعَہٗ وَحُبُّہٗ لِاِجْلَالِہٖ وَالْجُوْعُ مَعَ اَھْلِ حَبْلِہٖ
وَزُھْدٌ وَ تَفْرِیْجٌ وَ غَضٌّ وَ قُوَّۃٌ صَلَاۃٌ عَلَی الْھَادِیْ وَاِحْیَائُ فِعْلِہٖ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع