30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ بشارت نشان ہے : ’’ بروز قیامت سب سے پہلے عرش کا سایہ پانے والوں کے لئے خوشخبر ی ہے ۔ ‘‘عرض کی گئی : ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم !وہ کون لوگ ہیں ؟‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اے علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ!جولوگتمہاری پیروی کرتے اورتم سے محبت کرتے ہیں ۔ ‘‘(الفردوس بما ثورالخطاب، الحدیث۳۵۷۶، ج۲، ص۳۴۸بدون قیل…الخ)
سورۃ الانعام اورچالیس ہزارفرشتے :
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاارشاد فرماتے ہیں : ’’ جس نے صبح کی نماز میں ’’سورۂ انعام ‘‘کی ابتدائی تین آیات ’’یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُوْنَ‘‘ تک تلاوت کیں ، چالیس ہزار فرشتے اس کی طرف نازل ہوں گے ، جن کے اعمال کی مثل اس کے نامۂ اعمال میں اجرلکھاجائے گا اور سات آسمانوں کے اوپر سے ایک فرشتہ نیچے آئے گا جس کے پاس لوہے کا گُرز ہوگاپس اگر شیطان اس کے دل میں کوئی وسوسہ ڈالناچاہے گا تو وہ فرشتہ اس شیطان کوایک ضرب لگائے گاجس سے اس شخص اور شیطان کی درمیان ستَّر حجاب (یعنی پردے ) حائل ہوجائیں گے ، پھر جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے فرمائے گا : ’’اے میرے بندے !میں تیرا رب ہوں ، میرے عرش کے سائے میں چل ، حوض کوثر سے سیراب ہو ، نہرِسَلْسَبِیْل سے غسل کر اور جنت میں بغیر کسی حساب و عذاب کے داخل ہوجا ۔ ‘‘(الدر المنثور ، تفسیر سورۃ الانعام ، ج ۳ ، ص ۲۴۵)
ستَّرفرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیں :
(۱)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب سینہ، با عثِ نُزولِ سکینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ مغفرت نشان ہے : ’’جس نے نمازِ فجر جماعت سے پڑھی پھراسی جگہ بیٹھا رہا اور سورۂ انعام کی پہلی تین آیات تلاوت کیں تواللہ تبارک و تعالیٰ اس کے ساتھ ستَّر فرشتے مقرر فرمادے گاجو قیامت تک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح بیان کریں گے اور اس شخص کے لئے مغفرت کی دعاکرتے رہیں گے ۔ ‘‘ (الدر المنثور، سورۃ الانعام، ج۳، ص۲۴۶)
(۲)…حضرتسیِّدُنا ابو محمد حبیب بن عیسیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشافرمایاکہ’’ جس نے سورۂ انعام کی ابتدائی تین آیات کی تلاوت کی اللہ عَزَّوَجَلَّاس کے لئے ستَّرہزار فرشتے بھیجے گاجو قیامت تک اس شخص کے لئے استغفار کرتے رہیں گے اوراِن ملائکہ کے اجر کی مثل اسے اجردیاجائے گا اورقیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے جنت میں داخل فرمائے گا، اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گااورجنت کے پھل کھلائے گا اوروہ شخص حوضِ کوثر سے پئے گااورنہرِسَلْسَبِیْل سے غسل کرے گا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے ارشاد فرمائے گا : ’’ میں تیرا رب عَزَّوَجَلَّ ہوں اور تو میرا بندہ ہے ۔ ‘‘(الد رالمنثور، تفسیر سورۃ الانعام ، ج۳، ص ۲۴۵)
ذکرِالہٰی عَزَّوَجَلَّکی برکتیں :
حضرت سیِّدُناوہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ارشادفرماتے ہیں کہ’’ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ رب العزت میں عرض کی : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! جو اپنی زبان اور دل سے تیرا ذکر کرے اس کے لئے کیا جزاء ہے ؟‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’مَیں قیامت کے دن اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرماؤں گااور اسے اپنی رحمت میں رکھوں گا ۔ ‘‘(حلیۃالاولیاء ، الحدیث ۴۷۰۵، ج۴، ص ۴۸)
(علامہ سیوطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں )’’امام احمدبن حنبلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسی کی مثل ایک حدیث ، حضرت کعب الاحبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کی ہے ۔ ‘‘
عاجزی کرنے والوں کی خوش قسمتی :
حضرت سیِّدُنا سعیدبن مسیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضورنبی ٔکریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع