30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ نبی ٔکریم ، رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے : ’’تین اشخاص عرش کے سائے میں امن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوں گے جبکہ لوگوں کا حساب ہورہاہوگا(۱) وہ شخص جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت نہ روکے (۲) وہ شخص جواپنے ہاتھ کوحرام کی طرف نہ بڑھائے اور(۳)وہ شخص جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ چیزوں کی طرف نظر نہ کرے ۔ ‘‘(کنزالعمال ، کتاب المواعظ و الرقائق… ، الحدیث۴۳۲۴۶ ، ج۱۵ ، ص ۴۵ ۳)
بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے مقربین :
حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہسے مروی ہے کہ اللہ کے پیارے حبیب ، حبیب لبیبعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’دنیا میں زہد و تقویٰ اختیار کرنے والے لوگ ، کل (بروز قیا مت)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قرب میں ہوں گے۔ ‘‘ (الجامع الصغیر ، الحدیث ۳۵۹۷ ، ص ۲۱۹)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )’’اس حدیث پاک میں عرش کاسایہ پانے والے کی طرف اشارہ موجود ہے۔ ‘‘
حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی ٔپاک ، صاحبِ لَوْلاک ، سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا : ’’کہاں ہیں وہ لوگ جو اپنے کانوں اور آنکھوں کوشیطا نی مزامیر سے دور رکھتے تھے؟ ان کو دوسروں سے الگ کردو۔ ‘‘ پس انہیں مشک و عنبر کے ٹیلوں پرالگ کر دیا جائے گا ، پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ فرشتوں کوحکم فرمائے گا کہ ’’ان کومیری تسبیح ، تمجید اور تہلیل سناؤ ۔ ‘‘تو وہ ایسی آواز میں تسبیح بیان کریں گے کہ سننے والوں نے اس جیسی آواز کبھی نہ سنی ہوگی ۔ ‘‘
(الزھد لابن المبارک ، الجزء الرابع ، باب استعماع اللھو ، الحدیث ۴۳ ، ص ۱۲ مختصرًا )
زنا ، رشوت اورسودسے بچنے پرخوشخبری :
حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی ٔمُکَرَّم ، نُورِ مُجسَّم ، رسولِ اَکرم ، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’حضرت موسیٰ بن عمرانعلیہ السلامنے عرض کی : ’’اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! حظیرۃالقدس (یعنی جنت) میں کون تیرے قرب میں رہے گا اوراس دن کون تیرے عرش کے سائے میں ہوگا جس دن تیرے(عرش کے) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا؟‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’یہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں کبھی زنا کی طرف نہیں اٹھتیں ، وہ اپنے مال میں سود کے طلب گار نہیں ہوتے اوروہ اپنے فیصلوں پررشوت نہیں لیتے ، یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے خوشخبری اور اچھا ٹھکانا ہے۔ ‘‘ (شعب الایمان ، باب فی قبض الید…الخ ، الحدیث ۵۵۱۳ ، ج۴ ، ص۳۹۲)
حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَر ، دو جہاں کے تاجْوَر ، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے : ’’بروزِ قیامت تین اشخا ص اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کلام کرنے کاشرف حاصل کریں گے (۱)وہ شخص جو کبھی دوافراد کے سامنے بھی ریاکاری سے نہیں چلا(۲)وہ شخص جس نے کبھی اپنے دل میں بھی زناکے بارے میں نہیں سوچااور(۳) وہ شخص جس کی کمائی میں کبھی سود داخل نہیں ہوا۔ ‘‘
(حلیۃ الاولیاء ، الحدیث ۴۰۲۶ ، ج۳ ، ص ۳۰۲)
حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی ٔپاک ، صاحبِ لولاک ، سیَّاحِ افلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ تین اشخاص کواپنے سایۂ رحمت میں جگہ عطافرمائے گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا(۱)امانت دار تاجر(۲) عادل حکمران ا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع