30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیکھتا ہے تو ان کوبیمار گمان کرتا ہے جبکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف دامن گیرہوتا ہے ، قیامت کے دن یہ لوگ عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‘‘ (مسند فردوس الاخبار ، الحدیث : ۱۶۵۹ ، ج۱ ، ص۲۳۵)
مذکورہ حدیث پاک کاایک شاہدوہ ہے جو حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مرفوعًاروایت ہے کہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سب سے زیاد ہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں طویل عرصہ تک بھوک ، پیاس اورخوف میں مبتلارہے ، وہ بے عیب اوردنیا والوں سے ایسے پوشیدہ کہ جب حاضر ہوں توپہچانیں نہ جائیں اور غائب ہوں تو انہیں تلاش نہ کیا جائے۔ ‘‘ (مسند الحارث ، کتاب الصیام ، باب فضل الصوم ، الحدیث ۳۴۷ ، ج۱ ، ص۴۳۲)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )اس حدیث پاک میں سایۂ عرش پانے والوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ترین بندے :
حضرت سیِّدُنامعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر ، نبیوں کے تاجور ، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ترین بندے وہ ہیں جو پرہیزگار اور لوگوں سے ایسے پوشیدہ ہیں کہ اگر غائب ہوجائیں تو انہیں تلاش نہ کیاجائے اوراگرحاضرہوں توپہچانے نہ جائیں اوروہ ہدایت کے امام(یعنی نمونے اور مثالیں )اور علم کی کنجیاں (یعنی دروازے ) ہوتے ہیں۔ ‘‘
(حلیۃ الاولیاء ، مقدمۃ الکتاب ، باب بسم اللہ ۔ ۔ ۔ الخ ، ج۱ ، ص ۱۲)
اولادکوسکھاؤمحبت حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی :
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی بن ابی طالبکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ، صاحبِ معطر پسینہ ، باعثِ نُزولِ سکینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے : ’’اپنی اولاد کو تین باتیں سکھاؤ (۱) اپنے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی محبت(۲) اہل بیت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کی محبت اور (۳)تلاوتِ قرآن کیونکہ قرآن پاک پڑھنے والے لوگ ، حضرات انبیاء و اصفیاء علیہم السلام کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سایۂ رحمت میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ‘‘ (الجامع الصغیر ، الحدیث ۳۱۱ ، ص ۲۵)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )میں نے اس حدیث پاک کا ایک عمدہ ’’شاہد‘‘پایا ۔ چنانچہ ،
بچپن سے بڑھاپے تک تلاوتِ قرآن کریم :
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب سینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عرش نشان ہے : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ سات اشخا ص کواس دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گاجس دن اُس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا (۱)عادل حکمران (۲)وہ شخص جس سے کوئی جمال ومنصب والی عورت ملاقات کرے اورخودکو برائی کے لئے اس پرپیش کرے تووہ شخص یہ کہے کہ ’’میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہا نوں کا پالنے والا ہے۔ ‘‘ (۳)وہ شخص جس نے چھوٹی عمر میں قرآن پاک سیکھا اور اپنے بڑھاپے تک اس کی تلاوت کرتا رہا (۴)وہ شخص جس نے اپنے سیدھے ہاتھ سے اس طرح صدقہ کیاکہ اس کو اپنے بائیں ہاتھ سے پوشیدہ رکھا(یعنی بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہوئی)(۵)وہ شخص جس کا دل مساجد سے محبت کے باعث انہی میں لگا ر ہے (۶) وہ شخص جو دوسرے شخص سے ملے اور کہے کہ ’’میں تم سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں اور(۷)وہ شخص جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کیاتواس کی آنکھوں سے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ کے سبب آنسو بہہ نکلے ۔ ‘‘
(صحیح البخاری ، کتاب الاذان ، باب من جلس فی المسجد…الخ ، الحدیث۶۶۰ ، ص۵۳ ، بدون ’’ ورجل تعلم فی صغرہ فہو یتلوہ فی کبرہ‘‘لانہ ذکرہ السیوطی بسندہ)
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )اس حدیث پاک میں بیان کردہ تیسری صفت کی جگہ ’’ بخاری شریف‘‘میں یہ الفاظ ہیں : ’’وہ نوجوان جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں نشونماپائی ۔ ‘‘
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے گفتگوکرتے ہوں گے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع