30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی ٔمُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’حضرت موسیٰ بن عمرانعلیہ السلامنے عرض کی : ’’اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! حظیرۃالقدس (یعنی جنت) میں کون تیرے قرب میں رہے گا اوراس دن کون تیرے عرش کے سائے میں ہوگا جس دن تیرے (عرش کے ) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا؟‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’یہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں کبھی زنا کی طرف نہیں اٹھتیں ، وہ اپنے مال میں سود کے طلب گار نہیں ہوتے اوروہ اپنے فیصلوں پررشوت نہیں لیتے ، یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے خوشخبری اور اچھا ٹھکانا ہے ۔ ‘‘(شعب الایمان، باب فی قبض الید…الخ، الحدیث ۵۵۱۳، ج۴، ص۳۹۲)
حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے : ’’بروزِ قیامت تین اشخا ص اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کلام کرنے کاشرف حاصل کریں گے (۱)وہ شخص جو کبھی دوافراد کے سامنے بھی ریاکاری سے نہیں چلا(۲)وہ شخص جس نے کبھی اپنے دل میں بھی زناکے بارے میں نہیں سوچااور(۳) وہ شخص جس کی کمائی میں کبھی سود داخل نہیں ہوا ۔ ‘‘(حلیۃ الاولیاء ، الحدیث ۴۰۲۶، ج۳، ص ۳۰۲)
حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لولاک، سیَّاحِ افلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ تین اشخاص کواپنے سایۂ رحمت میں جگہ عطافرمائے گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا(۱)امانت دار تاجر(۲) عادل حکمران ا ور(۳) دن میں سورج کی رعایت کرنے والا ۔ ‘‘ (یعنی وقت میں نماز پڑھنے والا) (کنز العمال، کتاب المواعظ…الخ، ا لحدیث۴۳۲۵۲، ج۱۵، ص۶ ۳۴)
ماقبل حدیثِ مبارکہ میں تیسری خصلت کی تائیدیہ حدیث شریف کرتی ہے جو حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ بندے وہ ہیں جوسورج اور چاند کی رعایت کرتے ہیں ۔ ‘‘
یہ الفاظ بھی مروی ہیں کہ’’اورستاروں کی رعایت کرتے ہیں اور ذکرالہٰی عَزَّوَجَلَّ کرنے والوں کے لئے (عرش کا)سایہ ہے ۔ ‘‘(الزھدلابن المبارک، الجزء العاشر، استعنت باللہ، الحدیث۱۳۰۴، ص۴۶۰)
حضرت سیِّدُناابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک محبوب ترین بندے ، سورج اورچاندکی رعایت کرنے والے ہیں ۔ ‘‘(کتاب الزھد للامام احمد بن حنبل، الحدیث۷۷۰، ص۱۶۶)
حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ حقیقت بنیادہے : ’’تین اشخاص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے نیچے ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا(۱)وہ شخص جس نے میرے کسی پریشان امتی کی پریشانی دورکی(۲)وہ شخص جس نے میری سنت کوزندہ کیااور (۳) وہ شخص جس نے مجھ پرکثرت سے درود پاک پڑھے ۔ ‘‘(بستان الواعظین، مجلس : ۱۷، ص۲۶۰)
حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانے بارگاہِ رسالت مآبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں عرض کی : ’’یارسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم !جنت کی وادیوں میں اللہعَزَّوَجَلَّ کے جوارِرحمت (یعنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع