30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُصنّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پرظا ہر ہونے والے
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )یہاں پران خصائل کوبیان کیاجائے گاجو مجھ پر ظاہر ہوئے ہیں۔ چنانچہ ،
حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار ، ہم بے کسوں کے مددگار ، شفیعِ روزِ شُمار ، دو عالَم کے مالک و مختار ، حبیبِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے : ’’تین اشخاص بروز قیامت عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا۔ (۱)صلہ رحمی کرنے والاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے رزق میں اضافہ فرماتاہے اور اس کی عمر کو لمبا کرتا ہے (۲)وہ عورت جس کا شوہر فوت ہوگیا اوراس نے صرف یتیم بچے چھوڑے تو وہ عورت کہے کہ’’ میں دوسرا نکاح نہیں کروں گی بس اپنے یتیم بچوں کی نگہبانی کروں گی یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوجائے یاپھراللہ عَزَّوَجَلَّ ان کو غنی کردے اور(۳)وہ بندہ جس نے کھانا تیار کیاپس اپنے مہمان کی ضیافت کی اوراس میں خوب اچھی طرح خرچ کیا پھر یتیم اور مسکین کو بلایا اور انھیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے کھلایا۔ ‘‘ (فردوس الاخبار ، باب الثاء ، الحدیث ۲۳۴۹ ، ج۱ ، ص ۳۲۲)
ایک روایت میں یوں ہے کہ ’’اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنے اور ان پر شفقت کرنے والااور وہ شخص جس نے بہت اچھا کھانا تیار کیا اور فقراء ومساکین کو بلایااور انھیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے کھلایا۔ ‘‘
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہروقت ساتھ ہے :
حضرت سیِّدُناابوامامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نُبوت ، مَخْزنِ جودوسخاوت ، پیکرِعظمت و شرافت ، مَحبوبِ رَبُّ العزت ، محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’تین شخص قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سایۂ رحمت میں ہوں گے(۱)وہ شخص جس نے کہیں بھی توجہ کی تویہ یقین رکھاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے ساتھ ہے (۲) وہ شخص جسے کوئی عورت اپنی طرف دعوتِ گناہ دے تووہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف کے باعث اس سے بازرہے (۳)وہ شخص جو لوگوں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کرتا ہے۔ ‘‘ (فردوس الاخبار ، باب الثائ ، الحدیث۲۳۵۰ ، ج۱ ، ص۳۲۲)
حضرت سیِّدُنا فضالہ بن عبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا داؤد علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے بارگاہ ربُّ العزّت میں عرض کی : ’’اے میرے رب عَزَّوَجَلََّّ !مجھے اپنی مخلوق میں سے اپنے محبوب بندوں کے بارے میں خبر دے تاکہ میں اُن سے تیری خاطرمحبت کروں۔ ‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّنے ارشادفرمایا : ’’(۱)وہ بادشاہ جو لوگوں پر رحم کرتا ہے اورلوگوں کے حق میں اس طرح فیصلہ کرے جیسااپنے حق میں فیصلہ کرتا ہے (۲)وہ شخص جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مال دیا تو وہ اس کواللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے حصول اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں خرچ کرے (۳) وہ شخص جس نے اپنی جوانی اور طاقت کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں فناکردیا(۴)وہ شخص جس کا دل مساجد کی محبت کی وجہ سے انہی میں لگا رہتا ہے (۵) وہ شخص جو کسی خوبصورت عورت سے ملا پس وہ عورت اُسے اپنے آپ پرقدرت دے تووہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف کے سبب اس کو چھوڑ دے (۶)وہ شخص جو جہاں بھی ہویہ یقین رکھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے ساتھ ہے (۷)وہ لوگ جن کے دل صاف اورکمائی پاک ہے وہ میری رضا کے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں ، مَیں ان کاچرچاکرتا ہوں اور وہ میرا ذکر کرتے ہیں اور(۸) وہ شخص جس کی آنکھیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے آنسوبہائیں۔ ‘‘ (الزھد لابن المبارک ، باب تو بۃ داؤد…الخ ، الحدیث ۴۷۱ ، ج۱ ، ص۱۶۱ )
آسمانوں میں شہرت رکھنے والے :
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ اللہ کے مَحبوب ، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’دنیا میں بھوکے رہنے والے لوگو ں کی ارواح کواللہ عَزَّوَجَلَّ قبض فرماتا ہے اور ان کاحال یہ ہوتاہے کہ اگر غائب ہوجائیں توانہیں تلاش نہیں کیا جاتا ، اگر موجود ہوں تو پہچانے نہیں جاتے ، دنیا میں پوشیدہ ہوتے ہیں مگر آسمانوں میں ان کی شہرت ہوتی ہے ، جب جاہل وبے علم شخص انہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع