30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱)…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناموسیٰ بن عمران علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے بارگا ہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی : ’’اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !جوعورت اپنے بچے کے فوت ہونے پر صبر کرے اس کے لئے کیا جزاء ہے ؟‘‘اللہ عَزَّوَجَلّنے ارشاد فرمایا : ’’میں اسے اپنے سایۂ رحمت میں اس دن جگہ دوں گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ‘‘
(الترغیب فی فضائل الاعمال وثواب ذلک لا بن شاھین ، باب فضل من تبع الجنازۃ مختصرا ، الحدیث۴۰۸ ، ج۱ ، ص۴۶۲)
(۲)…ایک روایت یوں ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’حضرت موسیٰ علیہ السلامنے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی : ’’اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !جو عورت اپنے بچے کے فوت ہونے پر صبر کرے اس کی جزاء کیاہے ؟‘اللہ عَزَّوَجَلّنے ارشاد فرمایا : ’’میں اسے اپنے عرش کے سائے میں رکھوں گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔‘‘ (عمل الیوم و اللیلۃ لابن السنیی ، باب تعزیۃ اولیاء المیت ، الحدیث ۵۸۷ ، ص ۱۷۹)
(۳)…ایک روایت اس طرح ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ علیہ السلامنے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی : ’’اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !جو عورت اپنے بچے کے فوت ہونے پر صبر کرے اس کے لئے کیا جزاء ہے ؟‘‘اللہ عَزَّوَجَلّنے ارشاد فرمایا : ’’میں اسے اپنے سایۂ رحمت میں اس دن جگہ دوں گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ‘‘
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے منبر پرخطبہ دیتے ہوئے فرمایاکہ شہنشاہِ خوش خِصال ، پیکرِ حُسن وجمال ، دافِعِ رنج و مَلال ، صاحب ِجُودو نوال ، رسولِ بے مثال ، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا فرمان ذیشان ہے : ’’جسے یہ پسند ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلّ اسے جہنم کی گرمی سے بچائے اور اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے تووہ مسلمانوں پرسختی نہ کرے اوران کے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔ ‘‘
(کنز العمال ، کتاب الاخلاق ، الحدیث ۵۹۸۲ ، ج۳ ، ص ۶۹)
امام ابن حجر علیہ رحمۃاللہ الاکبر کے چنداشعار :
حضرت شیخ الاسلام علیہ رحمۃاللہ السَّلام نے آگے بیان کرنے کی عام اجازت دیتے ہوئے چند اشعار کہے ہیں :
وَزِدْمَعَ ضِعْفِ سَبْعَتَیْنِ اِعَانَۃٌ لِاَخْرَقَ مَعْ اَخْذٍلِحَقٍ وَبَذْلِہٖ
وَکُرْہُ وُضُوْئٍ ثُمَّ مَشْیٌ لِمَسْجِدٍ وَتَحْسِیْنُ خُلْقٍ ثُمَّ مَطْعَمُ فَضْلِہٖ
وَکَافِلُ ذِیْ یُتَمٍ وَاُرْمِلَۃٍوَھَتْ وَتَاجُرُصِدْقٍ فِی الْمَقَالِ وَفِعْلِہٖ
وَحُزْنٌ وَتَصْبِیْرٌوَنُصْحٌ وَرَأْفَۃٌ تَرْبَعُ بِھَاالسَّبْعَاتُ فِیْ فَیْضِ فَضْلِہٖ
ترجمہ:(۱)…سایۂ عرش پانے والے مزیدچودہ افرادیہ ہیں ۱؎ ناسمجھ کو حق دلا کر اس کی مدد کرنا اور ۲؎ سوالی کو عطاکرنا۔
(۲)…۳؎دشواری میں وضو کرنا۴؎مسجد کی طرف چلنا ۵؎خوش اخلاقی سے پیش آنااور ۶؎بھوکے کو کھاناکھلانا۔
(۳)…۷؎یتیم اور۸؎ محتاج کی کفالت کرنے والا۹؎ ا پنی جوانی کوعبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّمیں فنا کرنے والااور۱۰؎ قول وفعل میں سچاتاجر۔
(۴)…۱۱؎غمزدہ۱۲؎بچے کے فوت ہونے پرصبرکرنے والی۱۳؎ بادشاہ کونصیحت کرنے والااور ۱۴؎ لوگوں پرنرمی کرنے والا ، پس (ماقبل سے مل کر)فضلِ الٰہی عَزَّوَجَلَّپانے والے یہ سات کے چار گنا ( یعنی اٹھائیس) ہوگئے ہیں۔
(علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )میں کہتا ہوں ’’حضرت شیخ الاسلام علیہ رحمۃاللہ السَّلام نے اُم المؤمنین حضرتسیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی بیان کردہ حدیث پاک میں موجودایک خصلت کی طرف توجہ نہیں فرمائی (یعنی اشعارمیں ذکرنہ کیا) اوروہ یہ ہے کہ’’ وہ جولوگوں کے حق میں اس طرح فیصلہ کرتے ہیں جیسا اپنے حق میں فیصلہ کرتے ہیں۔ ‘‘عنقریب اس کاذکر بھی میرے اشعار میں آئے گا۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع