30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ارشادفرمایا : ’’(۱)وہ بادشاہ جو لوگوں پر رحم کرتا ہے اورلوگوں کے حق میں اس طرح فیصلہ کرے جیسااپنے حق میں فیصلہ کرتا ہے (۲)وہ شخص جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مال دیا تو وہ اس کواللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے حصول اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں خرچ کرے (۳) وہ شخص جس نے اپنی جوانی اور طاقت کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں فناکردیا(۴)وہ شخص جس کا دل مساجد کی محبت کی وجہ سے انہی میں لگا رہتا ہے (۵) وہ شخص جو کسی خوبصورت عورت سے ملا پس وہ عورت اُسے اپنے آپ پرقدرت دے تووہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف کے سبب اس کو چھوڑ دے (۶)وہ شخص جو جہاں بھی ہویہ یقین رکھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے ساتھ ہے (۷)وہ لوگ جن کے دل صاف اورکمائی پاک ہے وہ میری رضا کے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں ، مَیں ان کاچرچاکرتا ہوں اور وہ میرا ذکر کرتے ہیں اور(۸) وہ شخص جس کی آنکھیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے آنسوبہائیں ۔ ‘‘
(الزھد لابن المبارک ، باب تو بۃ داؤد…الخ ، الحدیث ۴۷۱، ج۱، ص۱۶۱ )
آسمانوں میں شہرت رکھنے والے :
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’دنیا میں بھوکے رہنے والے لوگو ں کی ارواح کواللہ عَزَّوَجَلَّ قبض فرماتا ہے اور ان کاحال یہ ہوتاہے کہ اگر غائب ہوجائیں توانہیں تلاش نہیں کیا جاتا، اگر موجود ہوں تو پہچانے نہیں جاتے ، دنیا میں پوشیدہ ہوتے ہیں مگر آسمانوں میں ان کی شہرت ہوتی ہے ، جب جاہل وبے علم شخص انہیں دیکھتا ہے تو ان کوبیمار گمان کرتا ہے جبکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف دامن گیرہوتا ہے ، قیامت کے دن یہ لوگ عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‘‘(مسند فردوس الاخبار، الحدیث : ۱۶۵۹، ج۱، ص۲۳۵)
مذکورہ حدیث پاک کاایک شاہدوہ ہے جو حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مرفوعًاروایت ہے کہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سب سے زیاد ہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں طویل عرصہ تک بھوک ، پیاس اورخوف میں مبتلارہے ، وہ بے عیب اوردنیا والوں سے ایسے پوشیدہ کہ جب حاضر ہوں توپہچانیں نہ جائیں اور غائب ہوں تو انہیں تلاش نہ کیا جائے ۔ ‘‘(مسند الحارث ، کتاب الصیام ، باب فضل الصوم ، الحدیث ۳۴۷، ج۱، ص۴۳۲)
(علامہ سیوطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں )اس حدیث پاک میں سایۂ عرش پانے والوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ترین بندے :
حضرت سیِّدُنامعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ترین بندے وہ ہیں جو پرہیزگار اور لوگوں سے ایسے پوشیدہ ہیں کہ اگر غائب ہوجائیں تو انہیں تلاش نہ کیاجائے اوراگرحاضرہوں توپہچانے نہ جائیں اوروہ ہدایت کے امام(یعنی نمونے اور مثالیں )اور علم کی کنجیاں (یعنی دروازے ) ہوتے ہیں ۔ ‘‘(حلیۃ الاولیاء ، مقدمۃ الکتاب ، باب بسم اللہ ۔ ۔ ۔ الخ ، ج۱ ، ص ۱۲)
اولادکوسکھاؤمحبت حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی :
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی بن ابی طالبکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’اپنی اولاد کو تین باتیں سکھاؤ (۱) اپنے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی محبت(۲) اہل بیت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کی محبت اور (۳)تلاوتِ قرآن کیونکہ قرآن پاک پڑھنے والے لوگ، حضرات انبیاء و اصفیاء علیہم السلام کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سایۂ رحمت میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‘‘ (الجامع الصغیر ، الحدیث ۳۱۱، ص ۲۵)
(علامہ سیوطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں )میں نے اس حدیث پاک کا ایک عمدہ ’’شاہد‘‘پایا ۔ چنانچہ ،
بچپن سے بڑھاپے تک تلاوتِ قرآن کریم :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع