30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مغارب الٹ ڈالے کوئی شخص حضور پر نور محمد ِمصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے افضل نہ پایا اور میں نے زمین کے مشارق ومغارب الٹ ڈالے بنی ہاشم سے بڑ ھ کر کسی باپ کی اولاد افضل نہ پائی۔ ([1])
کسی شاعرنے ا س مضمون کو اپنی زبان میں اس طرح ادا کیا ہے ؎
جبریل سے اک روز یوں کہنے لگے شاہ امم
تم نے دیکھا ہے جہاں بتلاؤ تو کیسے ہیں ہم
کی عرض یہ جبریل نے اے مہ جبیں تیری قسم
آفاقہا گردیدہ ام مہر بتاں ورزیدہ ام
بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری
امام احمد وترمذی و حاکم نے حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ جو شخص قریش کی بے عزتی چاہے گا اللہ اسے رسوا کرے گا۔ ‘‘([2])
ابو بکر بزار نے غیلانیات میں ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : روز قیامت بطن عرش سے ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا کہ اے اہل مجمع! اپنے سر جھکاؤ ، آنکھیں بندکرو ، یہاں تک کہ حضرت فاطمہ بنت سید عالم محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمصراط سے گزریں پھر آپ سَترَّ ہزار باندیوں کے ساتھ جو سب حوریں ہوں گی بجلی کے کوندنے کی طرح گزر جائیں گی۔([3])
بخاری و مسلم نے روایت کیا کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’اے فاطمہ!رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم مومنہ بیبیوں کی سردار ہو۔ ‘‘([4])
ترمذی و حاکم کی روایت میں ہے حضور علیہ وعلی آلہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : ’’مجھے اپنی اہل میں سب سے زیادہ پیاری فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا ہیں ۔ ‘‘([5])
سیدین جلیلین شہیدین عظیمین حضرات حسنین کریمین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا
حضرت اما م ابو محمدحسن بن علی مرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔ آپ ائمہ اثناعشر میں امام دوم ہیں ۔ آپ کی کنیت ابو محمد لقب تقی و سید عرف سبط رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماو ر سبط اکبر ہے۔ آپ کو رَیْحَانَۃُ الرَّسُوْلاور آخر الخلفاء بالنص بھی کہتے ہیں ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی ولادت مبارکہ ۱۵رمضان مبارک ۳ھ کی شب میں مدینہ طیبہ کے مقام پر ہوئی۔ حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے آپ کا نام حسن رکھا اور ساتویں روز آپ کا عقیقہ کیااور بال جدا کیے گئے اورحکم دیاگیا کہ بالوں کے وزن کی چاندی صدقہ کی جائے آپ خامس اہل کساء ہیں ۔([6])
بخاری کی روایت میں ہے قبلۂ حُسن و جمال سید ِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ واصحابہ وبارک وسلم سے کسی کو وہ مشابہتِ صوری حاصل نہ تھی جو سیدنا حضرت امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو حاصل تھی۔ آپ سے پہلے حسن کسی کانام نہ رکھا گیاتھا یہ جنتی نام پہلے آپ ہی کو عطا ہوا ہے۔ ([7])
[1] الصواعق المحرقۃ ، الباب الحادی عشر ، الفصل الثانی۔ ۔ ۔ الخ ، ص۱۸۹
[2] سنن الترمذی ، کتاب المناقب ، باب فی فضل الانصاروقریش ، الحدیث : ۳۹۳۱ ،
ج۵ ، ص۴۷۹
[3] اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ ، کتاب المناقب ، باب مناقب اہل البیت ، ج۱ ، ص۳۶۸
[4] صحیح البخاری ، کتاب الاستیذان ، باب من ناجیٰ۔ ۔ ۔ الخ ، الحدیث : ۶۲۸۵ ، ۶۲۸۶ ، ج۴ ، ص۱۸۴
[5] المستدرک للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، باب کان احب النسائ۔ ۔ ۔ الخ ، الحدیث : ۴۷۸۸ ، ج۴ ، ص۱۳۹
[6] تاریخ الخلفاء ، باب الحسن بن علی بن ابی طالب ، ص۱۴۹
و روضۃ الشہداء (مترجم) ، باب ششم ، ج۱ ، ص۳۹۶
[7] صحیح البخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب مناقب الحسن والحسین ،
الحدیث : ۳۷۵۲ ، ج۲ ، ص۵۴۷ وتاریخ الخلفاء ، باب الحسن بن علی بن ابی طالب ، ص۱۴۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع