30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو بھی دیکھ لے جو اس سے نیچے (کمتر)ہے۔([1])(بخاری، مسلم)
یہ دنیا کہیں تم کو بھی تبا ہ نہ کردے
حضرت ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے بحرین کی مہم پر بھیجا ، فتح پا کر جب وہ وہاں سے واپس آئے تو بہت سا مال غنیمت ساتھ لائے، نماز فجر سے فارغ ہو کر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم تشریف لے جانے لگے تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے کھڑے ہوگئی ، حضور عَلَیْہِالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کو دیکھ کر تبسم فرماتے ہوئے کہا:مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے یہ سُن لیا ہے کہ ابوعبیدہ (رَضِیَ اللہُ عَنْہ) کچھ مال لایا ہے۔ صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: ہاں ! یارسول اللہ(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) ، فرمایا: تمہیں خوشخبری ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تنگدستی دور کردی، بخدا ! میں تمہاری محتاجی(تنگدستی) سے خائف نہیں ہوں البتہ اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں تم پر دنیا کی فراخی(مال کی کثرت) اس قدر نہ ہوجائے جس قدر کہ تم سے پہلے لوگوں پر ہوگئی تھی اور تم بھی اسی طرح دنیا کی طرف راغب ہوجاؤ جیسے کہ وہ راغب ہوگئی تھے، اور پھر دنیا انہی کی طرح تم کو بھی تباہ کردے۔ ([2]) (بخاری ، مسلم)
حضرت ابوایوب انصاری رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یارسول اللہ!صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم مجھ کو کچھ نصیحت مختصراً ارشاد فرمائیے، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: نماز ایسی پڑھ جیسے کوئی رخصت ہونے والا پڑھتا ہے (یعنی یہ خیال کر کہ شاید یہ میری آخری نماز ہو، دوبارہ پڑھنے کی مہلت نہ ملے) اور نہ ایسی بات کر کہ جس سے کل معذرت کرنی پڑے اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے ناامید رہ۔ (یعنی دوسروں کے مال و متاع میں طمع نہ رکھ)۔ ([3]) (ابن ماجہ ، حاکم)
تو صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ بے اِختیار رو پڑے
حضرت زید بن اَرقم رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ نے پینے کو پانی طلب کیا، آپ کی خدمت میں شہد ملا ہو اپانی پیش کیا گیا، جب آپ نے منہ کو لگایا تو بے اختیار رو پڑے اور اس قدر روئے کہ حاضرین بھی رونے لگے، حاضرین تو رو کر چپ ہوگئی لیکن صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ برابر روتے چلے گئی یہاں تک کہ حاضرین نے جانا کہ ہم آپ سے رونے کا سبب بھی نہ دریافت کرسکیں گے، پھر جب آپ نے اپنی آنکھیں پونچھ ڈالیں تو حاضرین نے عرض کی: اے ناءب رسول (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)!آپ اس قدر کیوں روئے؟
فرمایا : ایک مرتبہ میں رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر تھا کہ میں نے دیکھا کہ آپ کسی سے فرماتے ہیں :مجھ سے دُور ہوجا حالانکہ وہاں (بظاہر) میرے علاوہ اور کوئی بھی نہ تھا، میں نے عرض کی: یارسول اللہ!صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم آپ کس کو دور کرتے ہیں؟ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : اس وقت دنیا مجسم ہو کر میرے سامنے آئی ، میں نے اس کو کہا:دور ہوجا، وہ دوبارہ آئی اور مجھ سے کہنے لگی: آپ تو مجھ سے بچے رہیں گے مگرآپ کے بعد کے لوگ تو مجھ سے بچ نہیں سکیں گے۔([4]) (حاکم، بیہقی، بزاز)
ہست دنیا پیر زال و پُرفریب میکند پیر و جواں را نا شکیب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع