30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: کوئی جان نہ مرے گی حتی کہ اپنا رزق پورا کرلے، خبردار! اللہ سے ڈرتے رہو تلاش رزق کے لیے درمیانی راہ اختیار کرو (حلال ذرائع سے روزی کماؤ، حرام ذرائع سے بچو، حرام ذرائع سے روزی کمانا افراط ہے اور بالکل کمائی نہ کرنا ، بیکار بیٹھ رہنا تفریط ) اور رزق میں دیر لگنا تم کو اس پر نہ اُکسائے کہ تم اللہ کی نافرمانی سے رزق ڈھونڈنے لگو، (اگرکبھی روزی کم ملے یا کچھ روز کے لیے نہ ملے تو چوری، جوا، ر شوت، خیانت اور غصب وغیرہ سے روزی حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو، حلال کام کئے جاؤ، اس کی مہربانی سے امید رکھو)کیونکہ اللہ کے پاس کی چیزیں اس کی فرمانبرداری سے ہی حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ ([1]) (شرح سُنّہ ، بیہقی ،مشکوٰۃ)
یعنی سب کی روزی اللہ ہی کے پاس ہے اگر تم نے اسے حرام ذریعہ سے حاصل کیا تو وہ حرام ہو کر تم تک پہنچی رب بھی ناراض ہوا مگر ملا وہی جو تمہارا حصہ تھا اور اگر حلال ذریعہ سے حاصل کیاتو وہ حلال ہو کر تمہارے پاس پہنچااللہ تعالیٰ بھی راضی ہوگیا ملا تمہارا حصہ ہی نیز اس میں قاعدہ بتایا گیا کہ کسی سے کچھ لیناہو تو اسے راضی کر کے لو، اللہ سے سب کچھ لینا ہے تو اسے ہمیشہ خوش کرنے کی کوشش کرو نیز رزق سے مراد صرف کھانا نہیں بلکہ کھانا پینا،پانی، ہوا، دھوپ، زمین پر چلنا وغیرہ سب ہی ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ کی دی ہوئی روزی ہیں ۔ بندہ کی پیداءش سے پہلے ہی اس کی سانسیں ، پانی، غذا سب مقرر ہوجاتی ہیں ، جب بندہ طے شدہ حصہ استعمال کرلیتا ہے تب اسے موت آتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ مرتے وقت کئی کئی دن بے ہوش پڑے رہتے ہیں صرف سانس لیتے رہتے ہیں کچھ کھاتے پیتے نہیں کیونکہ ابھی ان کے حصے کی ہوا میں کچھ سانسیں باقی ہوتی ہیں، اپناکھانا، پانی پورا استعمال کرچکے ہوتے ہیں وہ سانسیں پوری کرنے کے لیے اس طرح پڑے رہتے ہیں اور پوری کرچکنے کے بعد مرتے ہیں ۔([2]) (مرآۃ شرح مشکوٰۃ)
رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: ہلاک ہوجائے دنیا کا بندہ، روپیہ پیسہ کا بندہ اور اعلیٰ کپڑوں کا بندہ کہ اگر اسے دیا جائے تو راضی رہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہوجائے وہ ہلاک ہوجائے برباد ہوجائے اور جب کانٹا لگے تو نہ نکلے۔([3]) (بخاری ، مشکوٰۃ)
یہ کلمات بددعا کے ہیں کہ ایسا بندہ خدا کرے ہلاک، نگوں سار، ذلیل و خوار ہو جائے اور جب کسی مصیبت میں پھنسے تو کوئی اسے نکالنے والا نہ ہو پھنسا ہی رہے۔ ممکن ہے کہ یہ جملہ خبر یہ ہو یعنی ایسا آدمی ذلیل و خوار رہتا ہے، مصیبت میں اس کا کوئی غمخوار نہیں ہوتا۔([4])(مرآۃ شرح مشکوٰۃ)
رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے انسان! تو میری عبادت کے لیے فارغ ہوجا میں تیرا سینہ غنا سے بھردوں گا اور تیری غریبی دور کردوں گا(کمائی میں برکت، دل میں فراغت حاصل ہوگی) اور اگر تویہ نہ کرے گا (اپنا دل دنیا میں لگادے گا، کبھی آخرت کی طرف مائل نہ ہوگا) تو تیرا ہاتھ کام کاج سے بھردوں گا اور تیری فقیری (محتاجی) بند نہ کروں گا۔([5]) (احمد، ابن ماجہ)
یعنی اگر تو نے اپنے کو دنیا کی فکروں میں ہی لگادیا، تیرے دل میں دُنیا اُتر گئی تو تو کام کرے گا زیادہ فکر کرے گا زیادہ لیکن ملے گا وہی جو تیرے مقدر میں ہے تو مالدار ہو کر بھی محتاج ہی رہے گا، دل کا چین اللہ کی بڑی نعمت ہے، یہ اس کے ذکر سے نصیب ہوتا ہے۔([6]) (مرآۃ شرح مشکوٰۃ)
رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد:جب تم میں سے کوئی ایسے شخص کو دیکھے جسے اس پر مال و اَعضا میں بڑائی دی گئی ہے تو (اسے چاہیے کہ) اس شخص
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع