30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جہاں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ایک سال قیام کیا اس عرصہ میں آپ نے اعلان کرایاکہ جو غریب والدین غربت کی وجہ سے اپنی بیٹیوں یا بیٹوں کی شادی نہیں کرسکتے وہ ہمیں اطلاع دیں ہم ان سب کی شادیوں کے تمام اخراجات پورے کریں گے، لوگ درخواستیں لے کر آنے لگے ملکہ جہاں ہر ایک درخواست گزار سے بخندہ پیشانی دریافت کرتیں ، خرچ کے لیے کتنا روپیہ درکار ہے؟ جتنا کوئی بتاتا اس سے زیادہ عنایت فرمادیتیں چنانچہ ایک سال کے عرصہ میں چار ہزار لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں اپنے خرچ سے کرادیں سارے ملک میں ملکہ جہاں کی فیاضی اور سخاوت کی دُھوم مچ گئی ۔(تاریخ فرشتہ)
ایک دیہاتی نہایت غریب تھا، اس کے بال بچے فاقوں پر فاقے کرتے نڈھال ہوچکے تھے اللہ کی قدرت دیکھئے کہ اس علاقہ میں قحط واقع ہوگیا کنویں اور تالاب خشک ہوگئی ی ہاں تک کہ لوگ پانی کو بھی ترس گئی ے، ایک دن اس کی بیوی نے کہا: سُنا ہے کہ خلیفۂ بغداد بڑا ہی کریم النفس ہے، تم اس کے پاس جاؤ شاید ہمارا فقروفاقہ دور ہوجائے، وہ بولا: خلیفہ کے پاس جانے کے لیے کوئی تحفہ و نذرانہ بھی تو ہونا چاہیے خالی ہاتھ کیونکر چلا جاؤں ، میرے پاس اس کے لاءق ہدیہ کہاں ہے؟ بیوی نے کہا: ہمارے فلاں گڑھے میں جو صاف و شفاف کچھ پانی جمع ہے ایسا پانی خلیفہ نے کہاں دیکھا ہوگا، تم اس میں سے ایک گھڑا پانی لے جاؤ،بیوی کی یہ رائے مرد کی سمجھ میں آگئی گھڑا بھر کر لے چلا، عورت نے مصلّٰی بچھایا اور اس پانی کے صحیح و سلامت پہنچ جانے کی دعائیں مانگنے لگی، مولانا روم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :
زن مصلّٰے باز کردہ از نیاز رَبِّ سَلم ورد کردہ در نماز
(مثنوی معنوی)
اس کا شوہر بھی رَبِّ سلِّم کا ورد کرتا گیا کہ یا الہٰی! یہ گھڑا صحیح و سلامت منزل مقصود تک پہنچادے، بغداد پہنچا خلیفہ کے دربار میں حاضر ہوا، خلیفہ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ دیہاتی نے بتایا: ھٰذَا مَاء الْجَنَّۃِ (یہ جنت کا پانی ہے) ایسا نفیس پانی کسی نے نہ پیا ہوگا،خلیفہ نے گھڑا کھولنے کا حکم دیا چونکہ عرصہ سے بند تھا کھولتے ہی دربار میں بدبوپھیل گئی لیکن خلیفہ نے یہ ظاہر نہ ہونے دیا کہ ہم کو اس کی بدبو سے ایذا پہنچی ہے بلکہ اس نے غریب دیہاتی کا دل رکھنے کی خاطر ایک گلاس بھروا کر چکھا اور بہت تعریف بھی کی کہ: نہایت لطیف و نفیس پانی ہے، پھر حکم کیا یہ گھڑا خالی کر کے اس پانی کو خاص اہتمام کے ساتھ فلاں مقام پر رکھا جائے،جب گھڑا خالی کردیا گیا تو فرمایا: اس دیہاتی کا گھڑا اشرفیوں سے بھر کر دے دیا جائے، اس کے بعد خلیفہ نے اس دیہاتی کو رخصت کرتے ہوئے خدام سے کہا: اس کو دریائے دجلہ کے راستے سے لے جانا تاکہ اس کی تکان دور ہو اور اسے فرحت بھی حاصل ہو،دیہاتی دجلہ کو دیکھ کر شرم سے پانی پانی ہوگیا کہ اللہ ! اللہ یہ خلیفہ کیسا کریم ہے اس کو میرے گدلے پانی کی کیا ضرورت تھی جس کے پاس اس قدر لطیف و شیریں پانی کا دریا بہتا ہو۔ (مثنوی روم)
حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں ایک شخص نے بارہ ہزار روپے بطور ِ نذر پیش کیے اس رقم کو تقسیم کرنے میں ایک رات کا توقف ہوگیادوسرے روز آپ نے ساری رقم غربا و مساکین کو تقسیم کردی پھر فرمایا: رات کو مجھے اس مردار کی موجودگی کے باعث نیند نہیں آئی جب میں نے اسے دور کردیا تو اب فرحت حاصل ہوئی۔ (تذکرہ خواجہ سلیمان تونسوی)
ناگہاں بانگے برآمد خواجہ مرد خوردہ خورد و ماندہ ماند و دادہ بُرد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع