30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چونکہ اہلِ قبور کو جواب دینے کی اجازت نہیں اس لیے اب میں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ تو صبح میرے گھر جا میرے لڑکوں سے کہناکہ چولہے کے پاس پانچ سو اشرفیاں دفن ہیں انہیں نکال کر اس ضرورت مند شخص کو دے دیں ۔
صبح وہ اس کے گھر گیا اس کے لڑکوں سے اس کا پیغام کہہ سنُایا انہوں نے چولہے کے قریب زمین کھودی تو واقعی پانچ سو اشرفیاں برآمد ہوئیں اس نے ان سے کہا: یہ اشرفیاں ضروری نہیں کہ سب کی سب دے دو یہ تمہاری ملکیت ہیں جتنی چاہو دو، نہ چاہو تو کچھ بھی نہ دو، تمہیں اختیار ہے،لڑ کے بولے: سبحان اللہ ! ہمارا مرحوم باپ تو مرنے کے بعد بھی سخاوت کرے اور ہم بخل سے کام لیں ، انہوں نے سب اشرفیاں اس کے حوالے کردیں اور کہا: آپ مہربانی کر کے اس حاجت مند شخص کو پہنچا دیں ، جب وہ اس شخص کے پاس پہنچا تو ا س شخص نے ان میں سے ایک اشرفی لے کر تڑوائی آدھی رقم سے اس کا قرض ادا کیا اور بولا: بس اب مجھے ان کی ضرورت باقی نہیں رہی مجھے قرض ادا کرنے کے لیے صرف آدھی اشرفی ہی درکارتھی یہ سب اشرفیاں لے جاؤ اور محتاجوں کو بانٹ دو،حضرت خرگوشی فرماتے ہیں : میں فیصلہ نہیں کرسکا کہ اِن سب میں کون سب سے زیادہ سخی ٹھہرا۔([1]) (کیمیائے سعادت)
حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریاملتانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی شانِ سخاوت
حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے کچھ مرید جو موتی اور جواہرات کی تجارت کرتے تھے جہاز میں سفر کررہے تھے کہ یکایک جہاز کو طوفان نے گھیر لیا، جب جہاز غرق ہونے لگا تو انہوں نے حضرت شیخ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے روحانی مدد طلب کی اور جہاز بفضلہ تعالیٰ طوفان سے بچ کر صحیح و سلامت عدن کے ساحل تک پہنچ گیا، تاجروں نے اپنے مال کا تیسرا حصہ نکال کر بطور نذر حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی جانب سے خواجہ فخر الدین گیلانی کو اپنا نمائندہ بنا کر ان کے ذریعہ ستّر لاکھ روپیہ کی مالیت کے موتی اور جواہرات حضرت کی خدمت میں بھیج دیئے۔
خواجہ فخر الدین گیلانی حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مال و متاع پیش کر کے قبول کرلینے کی التجا ء کی،آپ نے اس نذرانہ کو قبول فرمالیا مگر تین دن کے اندر اندر یہ سارا مال فقرا و مساکین کوتقسیم کر کے ختم کردیا، خواجہ فخر الدین گیلانی یہ دیکھ کر بے حد متأثر ہوئے اور انہوں نے اپنا تمام مال فقرا و مساکین کوتقسیم کردیا اور تارک الدنیا ہو کر حضرت شیخ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوگئی ، پانچ برس حضرت شیخ کی خدمت کرتے گزر گئی تو آپ سے اجازت لے کر فریضۂ حج ادا کرنے مکہ مکرمہ کو روانہ ہوئے لیکن راستہ ہی میں ان کاانتقال ہوگیا۔
سلطان علاؤ الدین حسن کا نگوئی بہمن کی وفات کے بعد ۷۵۹ہجری میں اس کا بیٹا سلطان محمد شاہ تخت نشین ہوا اس کی والدہ ملکہ جہاں نے جب حج کا ارادہ کیا تو سلطان نے مُنادی کرادی کہ جو شخص مرد ہو یا عورت ملکہ جہاں کے ہمراہ سعادتِ حج حاصل کرنا چاہتا ہو اس کے تمام اخراجات سلطان ادا کرے گا، کئی ہزار مردو زن حج کے ارادے سے جمع ہوگئی ملکہ جہاں ان سب کے ہمراہ روانہ ہوئیں عظیم الشان قافلہ بندرگاہ پہنچ کر بحری جہازوں میں سوار ہوا ایک مہینہ اور سات دن بحری سفر طے کر کے بخیرو عافیت جدہ پہنچ گیا اورپھر مکہ مکرمہ پہنچ کر سب نے فریضۂ حج ادا کیا ، ملکہ جہاں نے عرب کے فقرا و مساکین کو اس قدر خیرات تقسیم کی کہ سب مالا مال ہوگئی ، ملکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع