دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sarmaya e Aakhirat | سرمایہ آخرت

book_icon
سرمایہ آخرت

حضرت غوث اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اپنے ہمراہیوں  سمیت اس بوڑھے  کے  مکان میں   رونق افروز ہوگئی ،موضع حلّہ اور مضافات سے لوگ جوق در جوق نذر و نیاز لے کر حاضر ہونے لگے، اگلے دن روانگی  کے  وقت تک سینکڑوں  مویشی جمع ہوچکے  تھے اور نقد وجنس  کے  انبار لگ چکے  تھے، حضور غوث اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے یہ تمام مویشی اور نقد و جنس  کے  انبار مالک مکان بڑے میاں  کو عطا فرمادیئے اور اپنے ہمراہیوں  سمیت سفر پر روانہ ہوگئی ، اللہ تعالیٰ نے اس غریب بوڑھے کو آپ  کے  قدموں  کی برکت سے اس قدر دولت عطا فرمادی کہ وہ اس علاقہ کا سب سے بڑا مالدار امیر بن گیا۔           (اخبارالاخیار)

سخائے غوث اعظم قُدِّسَ سِرُّہ

          حضور غوث اعظم قُدِّسَ سِرُّہ نے ایک درویش کو دیکھا کہ وہ شکستہ خاطر ایک گوشہ میں   مغموم بیٹھا ہے، فرمایا: کس حال میں   ہو اور کیا حال ہے؟درویش نے عرض کی: میں   دریا  کے  کنارے گیا تھا، ملاح کو دینے  کے  لیے میرے پاس کچھ نہیں   تھا کہ کشتی میں   بیٹھ کر پار اُتر جاتاابھی اس درویش کی بات پوری نہ  ہوئی تھی کہ ایک شخص نے تیس اشرفیوں  سے بھری  ہوئی تھیلی غوث اعظم کی خدمت میں   بطور نذرانہ پیش کی آپ نے وہ تھیلی جوں  کی توں  اس درویش کو عطا فرمادی اور فرمایا:یہ لے جاؤ اور ملاح کو دے دو۔ (اخبار الاخیار)

جمع کرنا ہمارا شیو ہ نہیں 

          کسی شخص نے حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں   کچھ روپے بطورِ نذر پیش کیے، آپ نے مولانا سید بدر الدین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے فرمایا: ان کو اسی وقت تقسیم کردو،مولانا نے حسب الحکم فقرا و مساکین کو تمام روپے تقسیم کردیئے، کچھ دیر بعد مولانا نے دیکھا کہ ایک روپیہ فرش پر گرا پڑاہے آپ نے اٹھالیا اور اس خیال سے کہ کل صبح فقرائے خانقاہ  کے  کام آجائے گا اپنے پاس رکھ لیا، جب آپ نماز پڑھانے کھڑے  ہوئے تو حضرت بابا صاحب نے نیت توڑ دی اور مولانا سے پوچھا: مولانا ! کیا وجہ ہے کہ نماز بے ذوق ہے، آیا تمہارے پاس کوئی  روپیہ باقی تو نہیں   رہ گیا؟مولانا نے عرض کی:حضور! ہاں ، ایک روپیہ میرے پاس ہے، میں   نے اس خیال سے رکھ لیا کہ کل صبح کام آجائے گا،حضرت بابا صاحب نے وہ روپیہ مولانا سے لے کر پرے پھینک دیا اور غصہ  کے  ساتھ فرمایا: اسے کیوں  رکھ چھوڑا، اگر کوئی  لینے والا نہیں   تھا تو باہر پھینک دیا ہوتا، جمع کرنا ہمارا شیوا نہیں۔(سیرالاولیاء)

لوگوں  کو ٹھنڈا پانی ہی پلادو

          حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  کے  گھر میں   اکثر فاقہ رہتا، آپ  کے  اہل وعیال کی زندگی نہایت تنگ دستی میں   بسر ہوتی تھی مگر اس  کے  باوجود سخاوت کا یہ عالم تھا کہ ہزاروں  روپے جو نذرانہ میں   آتے اسی وقت غربا و مساکین اور دیگر مستحقین کو تقسیم کرادیتے اور اپنے اہل و عیال  کے  لیے کچھ بھی نہ رکھتے جس دن کوئی  چیز نہ ہوتی خدّام سے فرماتے: لوگوں  کو ٹھنڈا پانی ہی پلادو تاکہ کوئی  دن بخشش و عطا سے خالی نہ جائے۔

شانِ سخاوت

          خواجہ نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا مَطْبَخ ہمیشہ گرم رہتا، کئی  ہزار فقرا و مساکین روزانہ کھانا کھاتے خانقاہ میں   جو کچھ آتا شام تک تقسیم ہوجاتا، حکم تھا کہ کوئی  چیز بچا کر نہ رکھی جائے، جب خانقاہ میں   زیادہ مال و اسباب جمع ہوجاتا آپ رونے لگتے اور فرماتے سب کچھ اسی وقت تقسیم کردیا جائے، جمعہ  کے  روز تمام خانقاہ کو خالی کرنے کا حکم فرماتے، جب خادم آکر اطلاع دیتا کہ اب کوئی  چیز باقی نہیں   رہی جھاڑو تک دے دی گئی  ہے تو آپ اظہارِ اطمینان فرماتے ا س  کے  بعد جامع مسجد تشریف لے جاتے اور اطمینان  کے  ساتھ نماز ادا فرماتے۔ ایک بار ایک سوداگر

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن