30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بطورِ تحفہ بھیجے، ایک یا دو دن گزرے ہوں گے کہ میں نے دیکھا، آپ اپنے صاحبزادے کے لیے بازار سے جُوتا خرید رہے ہیں ، میں نے تعجب سے پوچھا: ابھی تو کل آپ کے پاس ایک ہزار پاپوش تحفۃً آئے تھے آج بچے کے لیے جوتا خرید رہے ہیں ،فرمایا: میرا قاعدہ اِ ن تحفوں کے متعلق یہی ہے کہ اپنے شاگردوں اور متوسلین میں تقسیم کردیتا ہوں ۔ (معجم)
امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ایک بار جب کہ آپ سفر حج میں تھے عبداللہ سہمی بھی آپ کے ساتھ تھا کسی منزل میں ایک بَدَوی نے اسے پکڑا اور امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے سامنے لا کرکہا: اس پر میرے کچھ روپے قرض ہیں اور یہ ادا نہیں کرتا،امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے عبداللہ سے حقیقت دریافت کی اس نے کہا: میں نے اس کا کچھ نہیں دینا ہے،امام اعظم نے بَدَوی سے پوچھا: آخر کتنے درہموں پر جھگڑا ہے؟ اس نے کہا: چالیس درہم، متعجب ہو کر فرمایا: زمانہ سے حمیت اٹھ گئی ، اتنے سے معاملہ پر یہ جھگڑے، یہ فرما کر چالیس درہم آپ نے اپنے پاس سے بَدَوی کو دےدیئے ے۔(معجم)
تمہارے دروازے پر تھیلی پڑی ہے اسے اٹھالو!
کوفہ میں ایک خوشحال تاجر کا کاروبار حوادثِ زمانہ کی نذر ہوگیا اور وہ پائی پائی کا محتاج ہوگیا خویش واقارب نے آنکھیں پھیرلیں اور احباب اس سے ملنے سے احتراز کرنے لگے بقول شاعر:
بوقت تنگ دستی آشنا بیگانہ مے گردد صراحی چوں شود خالی جدا پیمانہ مے گردد
ایک دن گلی میں ککڑیاں بیچنے والا آیا محلے کے بچے ککڑیاں خریدنے اور کھانے لگے اس کی چھوٹی بچی یہ دیکھ کر دوڑتی ہوئی اپنی ماں کے پاس آئی بولی: امی! ککڑی لے دیجئے، اس کی ماں کے پاس پیسے نہ تھے، آنکھوں میں آنسو بھر لائی ، باپ دیکھ کر تڑپ اٹھا: وَقَصَدَ مَجْلِسَ الْبَرَکَۃِ وَھُوَ مَجْلِسُ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ اس نے مجلس برکت میں جانے کا ارادہ کیا، امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی مجلس اسی نام سے مشہور تھی، اس نے سوچا کہ امام اعظم سے کچھ رقم بطورِ قرض حاصل کرے، حضرت امام اعظم کی مجلس میں بہت سے لوگ حاضر تھے یہ تاجر مجلس میں پہنچا، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہہ کر ایک طرف بیٹھ گیا،دل میں کئی بار آیا کہ حضرت امام سے عرضِ مُدَّعا کرے لیکن شرم و حیا کے باعث حرفِ مُدَّعا زبان پر نہ لاسکا، کچھ دیر بعد خاموشی سے اُٹھ کر چلا، امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نور فراست سے سمجھ گئی کہ یہ کوئی حاجت مند ہے لیکن شرافت کی وجہ سے اپنا مدعا بیان نہیں کرسکاہے، امام اعظم مجلس سے اُٹھے راز داری کے ساتھ اس کے پیچھے پیچھے چلتے گئی ے، وہ تاجر اپنے گھرمیں داخل ہوگیا تو امام اعظم واپس آگئی ۔
رات ہوئی تو امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے پانچ سو درہم کی تھیلی اٹھائی اور تاجر کے مکان پر پہنچ کر دستک دی جب وہ باہر نکلا تو امام اعظم نے تھیلی اس کی دہلیز پر رکھ دی اور یہ کہتے ہوئے روانہ ہوئے: دیکھو! یہ تمہارے دروازے پر تھیلی پڑی ہے اسے اٹھالو یہ تمہارے لیے ہے،تاجر نے تھیلی تو اٹھالی مگر چونکہ امام اعظم اپنا چہرہ مبارک کپڑے سے چھپائے ہوئے تھے پہچان نہ سکا کہ یہ کون ہیں ، گھر میں داخل ہو کر تھیلی کو کھولا تو اس میں ایک پرچہ لکھا ہوا دیکھا: ھٰذاالْمِقْدَارُجاء بِہ اَبُوْحَنِیْفَۃَ اِلَیْکَ مِنْ وَجْہِ حَلَالٍ فَلْیَفْرُغْ بَالَکیہ رقم ابوحنیفہ تیرے پاس لایا جو حلال طریقہ سے حاصل کی گئی ہے قلب کی فراغت سے اسے استعمال کرو۔(مناقب موفق)
امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی شانِ سخاوت
امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا تجارتی کاروبار اس قدر وسیع تھا کہ لاکھوں کا کاروبار ہوتا تھاتجارت اور کسبِ مال سے ان کا مقصود زیادہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع