30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مجاہدین کے لیے سامان تیار کررہے تھے حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایک ہزار اشرفیاں لے کر حاضر ہوئے اور حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی گود میں ڈال دیں ،میں نے دیکھاکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اِن اشرفیوں کو اپنی گود میں اُلٹتے پلٹتے تھے اور فرماتے تھے: عثمان کو اب کچھ نقصان نہیں ہوسکتا آج کے بعد جو چاہیں کریں ، اس کومتعددباردہرایا۔([1]) (مسند احمد)
امام مالک اور امام شافعی رَحِمَہُمَ اللہُ تَعَالٰی
ایک مرتبہ حضرت امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ حضرت امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس ملاقات کیلئے تشریف لے گئی ، حضرت امام مالک کے دروازے پر خراسان کے گھوڑوں اور مصر کے خچروں کا گلہ موجود پایا،امام شافعی نے فرمایا: یہ کس قدر بہتر گھوڑے اور عمدہ خچر ہیں ،امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: اے ابوعبداللہ! یہ سب میں نے آپ کو تحفۃً دےدیئے ے۔امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: آپ ان میں سے ایک تو اپنی سواری کے لیے رکھ لیں ،امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے شرم آتی ہے کہ جس زمین میں اس کے محبوب رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمموجو د ہیں اس زمین پر سوار ہو کر چلوں اور میری سواری کے سُم اس زمین کو پامال کریں ۔ (معجم موفق)
حضرت ابوالحسن اَنطا کی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے ہاں تیس مہمان آگئی ، آپ کے پاس گنتی کی چند روٹیاں تھیں ، ان سے سب شکم سیر نہ ہوسکتے تھے،آپ نے روٹیوں کو توڑ کرٹکڑے بنائے پھر دستر خوان بچھایا اور اس پر ٹکڑے بکھیردیئے، مہمانوں سے فرمایا: تم کھانا کھاؤ میں چراغ کی بتی درست کرتا ہوں سب ہاتھ منہ چلاتے رہے گویا کہ کھارہے ہیں ، جب چراغ جلاکر لایا گیا تو دیکھا کہ روٹیوں کے سب ٹکڑے جوں کے توں موجود ہیں اس خیال سے کسی نے کچھ نہ کھایاتھا کہ دوسرے کھالیں ۔([2]) (احیاء العلوم)
حضرت سیّد صیدعلی شاہ صاحب سوہاوی (کشمیری) رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا لنگر ہمیشہ جاری رہتا تھا، سینکڑوں مہمان اور غربا و مساکین روزانہ آپ کے دستر خوان پر شکم سیر ہوتے تھے نیز طلبہ کے لیے قیام و طعام کا مستقل انتظام تھا جو تحائف بصورت نقدوجنس آتے مستحقین کوتقسیم فرمادیا کرتے تھے، انتقال سے چند یوم پہلے بہ یک وقت کئی ہزار کی رقم آگئی اپ نے اپنے داماد سائیں ولی شاہ صاحب کو ہدایت فرمائی کہ بیوگان، یتامٰی اور مساکین کو بُلاکر یہ تمام رقم تقسیم کردو اور پھر مجھے اطلاع دو چنانچہ ایک ہی دن میں یہ ساری رقم تقسیم کردی گئی ، سائیں ولی شاہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے جب حضرت سید صید علی شاہ صاحب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں عرض کی: قبلہ ! حسب الحکم تمام روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں ، تو آپ نے فرمایا: چھُٹی ہیرجنجالوں ، یعنی ہیر جنجال سے چھوٹ گئی ، پھر فرمایا: شکر ہے کہ اب مجھے اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرمایاے گا کہ صید علی متاع دنیا چھوڑ آیا ہے۔ (مشائخ چشت)
ارشادِ شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ
از زر و سیم راحتے برساں خویشتن ہم تمتعے برگیر
و آنگہ ایں خانہ از تو خواہد ماند خشتے از سیم و خشتے از زر گیر
سونے اور چاندی (جو مال تجھ کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے اس) سے دوسروں کو راحت (آسائش) پہنچا اور اس سے خود بھی فا ئدہ اٹھا، یہ گھر آخر کار تجھے چھوڑنا ہی ہے خواہ تو نے اس کو سونے چاندی کی اینٹوں سے تعمیر کرلیا ہو۔(گلستان)
آج بچے کے لیے جوتا خریدرہے ہیں
حضرت یوسف بن خالد السمتی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : ایک حاجی نے امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں ایک ہزار پاپوش
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع