30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت امام حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی خدمت میں ایک سائل حاضر ہوا اور بولا: اے فرزند رسول ! میں ایک مفلس نادار شخص ہوں ، میں صاحبِ اہل وعیال ہوں ، مجھے اپنے پاس سے اپنے رات کے کھانے میں سے کچھ عنایت فرمائیں ، فرمایا: بیٹھ جاؤ میرا رزق ابھی راہ میں ہے،کچھ دیر بعد چند آدمی حاضر ہوئے بولے: حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے یہ پانچ تھیلیاں بھیجی ہیں ، ہر تھیلی میں ایک ہزار دینار ہیں ، امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ معذرت خواہ ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ فی الحال ان کو اپنے خدام پر خرچ کریں مزید نذرانہ عنقریب ارسال کردوں گا، امام حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے پانچوں تھیلیاں سائل کو عنایت فرمادیں اور معذرت کرتے ہوئے فرمایا: تجھ کو بہت دیر انتظار کرنا پڑا، سرِدستیہی کمتر عطیہ ہے، اگر میں جانتا کہ اتنی قلیل مقدار ہوگی تو میں تجھے انتظار کی زحمت نہ دیتا مجھے معذور سمجھنا۔([1]) (کشف المحجوب)
حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے عہدِ خلافت میں ایک عرب امیر سعید بن عاص رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا سخاوت میں ہاتھ اس قدر کھلا تھا کہ جب کوئی حاجت مند آتا اور اس کے پاس کچھ موجود نہ ہوتا تو اسے مطلوبہ رقم کا پرونوٹ([2])لکھ دیتے، ان کے انتقال کے بعد اس قسم کی رقوم کا حساب کتاب ہوا تو پتا چلا کہ تین لاکھ بیس ہزار کی رقم واجب الادا ہے، کسی طرح اسکی اطلاع حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو بھی ہوگئی ، آپ نے ازراہِ ہمدردی یہ رقم مرحوم امیر کے بیٹے عمرو بن سعید کو بھیج دی اور کہلوایا کہ: اسے تقسیم کر کے مرحوم کا بوجھ ہلکا کرو،عمرو بن سعید نے شکریہ کے ساتھ رقم امیر معاویہ کو واپس بھیج دی اور جواباً کہلوادیا: امیرالمؤمنین اگر میں یہ رقم قبول کرلوں گا تو اس سے میرے والد مرحوم کی سخاوت پرحرف آئے گا،امیر معاویہ نے دریافت کیا: پھر تمہارے والد کا یہ بوجھ کس طرح اُترے گا؟ عمرو بن سعید نے جواب دیا: امیرالمؤمنین ! میرے والد کا محل اسی رقم میں خرید لیں میں اسے لوگوں میں تقسیم کر کے والد مرحوم کا بوجھ اتار دوں گا،امیر معاویہ نے یہ محل خریدلیا اور عمرو بن سعید نے یہ رقم اسی طرح تقسیم کردی گویا اسے ملی ہی نہ تھی۔([3])
اتنی سی بات کے لیے چندہ کیوں کرتے ہو
ابراہیم بن عتبہ چار ہزارروپیہ کے مقروض تھے اور ادا نہ کرسکتے تھے اس ندامت کی وجہ سے انہوں نے لوگوں سے ملنا جلنا ترک کردیاتھا، ان کے ایک دوست نے چندہ کر کے ان کا قرض ادا کرنا چاہا لوگوں نے بقدر حیثیت چندہ دیا امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس گئی تو آپ نے دریافت فرمایا: کل قرضہ کس قدر ہے؟ اس نے کہا: چار ہزار روپیہ ، فرمایا: اتنی سی بات کے لیے چندہ کیوں کرتے ہو امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اسی وقت چار ہزار روپے ادا کردیئے۔([4])
حضرت حسن بن سہل رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ پریشان حالی میں بھی سائل کو کبھی خالی نہ جانے دیتے، جو کچھ آپ کے پاس موجود ہوتا غربا و مساکین کو تقسیم کردیا کرتے تھے، ایک دفعہ حضرت ثعلب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ آپ سے ملنے آئے تو آپ سے کہا: لَیْسَ فِیْ السَّرْفِ خَیْرٌ(اسراف میں بھلائی نہیں ہے)آپ نے جواب دیا: بَلْ لَیْسَ فِی الْخَیْرِ سَرْفٌ (بلکہ خیر میں اسراف ہوتا ہی نہیں ہے)۔ ([5]) (کتاب الاذکیاء)
عثمان کو اب کچھ نقصان نہیں ہوسکتا
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِوَسَلَّمغزوہء تبوک کے انتظامات میں مصروف تھے اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع