دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sarmaya e Aakhirat | سرمایہ آخرت

book_icon
سرمایہ آخرت

ایک ہزار اشرفیاں  اور ایک ہزار بکریاں  عنایت کیں ، پھر آپ نے بڑھیا کو حضرت امام حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کے  پاس بھیج دیا ۔امام حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے بھی بڑھیا کو ایک ہزار اشرفیاں  اور ایک ہزار بکریاں  عنایت کیں پھرآپ نے اسے حضرت عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کے  پاس بھیجا انہوں نے فرمایا: اگر تو ان  کے  پاس پہنچنے سے پہلے میرے پاس آجاتی تو میں   تمہیں   اس قدر مال دیتا کہ وہ دونوں  صاحبان نہ دے سکتے۔ یہ فرما کرآپ نے اس بڑھیا کو دو ہزار اشرفیاں  اور دو ہزار بکریاں  عنایت کیں اس قدر داد ودَ ہِش پا کر بڑھیا بے حد مسرور  ہوئی اس  کے  خواب و خیال میں   بھی نہ تھا کہ جن مسافروں  کو اس نے ایک بکری کا گوشت کھلایا تھا وہ اس قدر عالی مقام اور سخاوت  کے  بادشاہ ہیں   ۔([1]) (کیمیائے سعادت)

عبدا   للّٰہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ عَنْہ   اور حبشی غلام

          حضرت عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ عَنْہ بڑے رحم دل اور سخی تھے، یتیموں  بیواؤں  کی کفالت اور غرباء ومساکین کی مالی مدد سے دریغ نہ فرماتے تھے، آپ کی دریا دلی اور سخاوت مشہور تھی آپ ایک دفعہ کسی سفر میں   تھے اَثنائے سفر میں   کھجوروں  کا ایک باغ نظر آیا آپ تکان دور کرنے اور کچھ دیر آرام کرنے  کے  خیال سے اس باغ میں   آئے غسل کیا نماز پڑھی اور لیٹ گئی ۔

          آپ نے دیکھا کہ ایک حبشی غلام باغ کی رکھوالی کررہا ہے جب کھانے کا وقت ہوا تو اس غلام  کے  لیے تین روٹیاں  لائی گئیں غلام ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھانے بیٹھا ہی تھا کہ وہاں  ایک کتاآیا اور غلام  کے  سامنے بیٹھ کر دم ہلانے لگا غلام نے ایک روٹی کتے  کے  آگے ڈال دی، کتا روٹی کھا کر پھر دُم ہلانے لگا غلام نے دوسری روٹی کتے  کے  آگے ڈال دی، کُتے نے دوسری روٹی بھی کھالی اور پھر دم ہلانے لگا تو غلام نے تیسری روٹی بھی کُتے  کے  آگے ڈال دی اور خود کچھ کھائے بغیر اٹھ کھڑا ہوا۔

          حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ بڑے غور  کے  ساتھ یہ ماجرا دیکھ رہے تھے، آپ نے اس غلام کو اپنے پاس بلا کر پوچھا:تجھے روزانہ کتنی روٹیاں  کھانے کو ملتی ہیں   ؟ اس نے کہا: صرف تین روٹیاں ،فرمایا: تو پھر تونے یہ تینوں روٹیاں  کتے کو کیوں  کھلادیں ؟ اس نے کہا: یہ کتا میں   نے اس سے پہلے کبھی نہیں   دیکھا تھا اس خیا ل سے کہ یہ کہیں   دور سے آیا ہوگا اور بھوکا بھی ہوگا میں   نے تینوں  روٹیاں  اس کو کھلادیں ، آپ نے پوچھا: تو پھر آج تم کیا کھاؤ گے؟وہ بولا:آج میں   بھوک پر صبر کروں  گا اور اللہ کا شکر کروں  گا حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ یہ سن کر نہایت متا ٔثر  ہوئے کہنے لگے: سُبحٰن اللہ لو گ مجھ کو سخی سمجھتے ہیں    لیکن یہ شخص تو مجھ سے کہیں   بڑھ کر سخی نکلا پھر آپ نے اس  کے  مالک سے اسے خریدلیا اور آزاد کردیاپھر باغ کو خریدا اور فرمایا:میں   نے یہ باغ تیری ملکیت میں   دیدیا اور خود اپنے سفر پر روانہ ہوگئی ۔([2]) (احیاء العلوم)

میں   اللہ کو کیا جواب دیتا

          حضرت امام حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کی خدمت میں   ایک سائل  حاضر ہوا اس نے لکھی  ہوئی درخواست پیش کی آپ نے درخواست کو پڑھے بغیر بلاتا ٔمل فرمایا: تیری حاجت پوری کی جائے گی،حاضرین میں   سے ایک شخص نے عرض کی: اے نواسۂ رسول اس کی درخواست کو پڑھ کر جوا ب دیا ہوتا، فرمایا: جب تک میں   درخواست کو پڑھتا یہ شخص میرے سامنے کھڑا رہتا، پھر اگر اللہ تعالیٰ مجھ سے مواخذہ کرتا کہ تو نے سائل  کو اتنی دیر کھڑا رکھ کر کیوں  ذلیل کیا، تو میں   کیا جواب دیتا۔ ([3]) ( احیاء العلوم)

تو میں   تجھے انتظار کی زحمت نہ دیتا

 



 [1] کیمائے سعادت، فضل سخاوت، ۲/۶۴۳

 [2] احیاء العلوم، کتاب ذم البخل وذم حب المال، ۳/۳۱۸

 [3] احیاء العلوم، کتاب ذم البخل وذم حب المال، ۳/۳۰۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن