30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَسَلَّمنے فرمایا :عمر! حق تو شاید اس ایک لقمہ کا بھی ادا نہ ہوا کیونکہ اس غریب نے تمہاری مہمان نوازی کے لیے ادھار لینے سے بھی دریغ نہ کیا تھااور اپنی بساط سے زیادہ تمہاری خدمت کی تھی لیکن تمہارے لیے اونٹوں کی قطار مال و متاع سمیت دے دینا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
حضرت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ اپنے زمانہ خلافت میں ایک دفعہ خواتین کو چادریں تقسیم کررہے تھے آخر میں ایک چادر بچ رہی آپ اس تردد میں تھے کہ یہ چادر کسے دی جائے حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کی:یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اَعْطِ ھٰذَا ابْنَۃَ رَسُوْلِ اللہِ الَّتِیْ عِنْدَکَ یُرِیْدُوْنَ اُمَّ کُلْثُوْماے امیر المومنین یہ چادر آپ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی بیٹی کو عنایت فرما دیں جو آپ کے پاس ہے ان کی مراد حضرت اُم کلثوم بنت علی تھیں ۔([1]) (بخاری، باب الجہاد)
واضح رہے کہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں حضرت علی مرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو ان کی بیٹی اُمّ کلثوم بنت فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کے لیے پیغام نکاح دیا تھاشیر خدا حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے آپ کا پیغام منظور فرمایا اور ۱۷ہجری میں ان کا نکاح چالیس ہزار درہم مہر پر اُم کلثوم سے کردیا تھا۔([2]) (تاریخ کبیر از طبری ، کامل ابن اثیر، کتاب الثقات ازابن حبان، معارف ابن قتیبہ)
جائید اد ِثمغ
مدینہ منورہ میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ اور فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو گزارہ کے لیے زمین کے قطعات عطا فرمایاے تھے،(یہ قطعاتِ زمین فتح خیبر کے بعد جنگ خیبر میں شریک تمام صحابہ میں تقسیم کیے گئی تھے) حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے حصے میں جو زمین آئی اس کا نام ثمغ تھا اس کے علاوہ یہودِ بنی حارثہ سے بھی ان کو ایک قطعہ زمین حاصل ہوا تھا اس کا نام بھی ثمغ تھا حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے زمین کے یہ دونوں قطعات اللہ کی راہ میں وقف کردیئے اور اس وقف میں یہ شراءط مقرر کردیں : یہ زمین نہ فروخت ہوگی نہ ہبہ کی جائے گی، نہ وراثت میں منتقل ہوگی، جو کچھ اس سے حاصل ہوگا وہ فقراء ، ذوی القربیٰ ، غلاموں اور مہمانوں کا حق ہے۔([3])
عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی شانِ سخاوت
خلیفۃ الرسول حضرت ابوبکر صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے زمانۂ خلافت میں قحط پڑا لوگ بہت پریشان تھے ایک روز حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: آج شام تک اللہ تمہاری پریشانی دور کردے گاچنانچہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے ایک ہزار اونٹ غلہ سے لدے ہوئے آئے، مدینہ منورہ کے تاجر غلہ خریدنے کے لیے حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے پاس پہنچے حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے پوچھا: یہ بتاؤکہ ملک شام سے یہ غلہ جو میرے پاس آیا ہے تم اس پر کس قدر نفع دو گے؟ تاجروں نے کہا:دس روپیہ کے غلہ پر دو روپے،حضرت عثمان ذوالنورین رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: مجھے اس سے زیادہ ملتا ہے، آخر ہوتے ہوتے ان تاجروں نے کہا: جو مال آپ نے دس روپے میں خریدا ہے اس کی قیمت پندرہ روپے دیں گے،حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: مجھے اس سے بھی زیادہ مل رہا ہے،تاجروں نے تعجب سے کہا: وہ زیادہ دینے والا کون ہے مدینہ کے تاجر تو ہم ہی لوگ ہیں ،آپ نے فرمایا: مجھے ایک روپیہ کے مال کی دس روپے قیمت مل رہی ہے کیا تم اس سے زیادہ دے سکتے ہو؟ تاجروں نے انکار کردیا، حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: تم لوگوں کو میں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے یہ سب غلہ اللہ کی راہ میں فقراء ِ مدینہ کو دے دیا۔ (سیرت رسول عربی)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع