30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے جہاد کی اہمیت اور فضیلت بیان فرمائی اور ترغیب دی کہ مسلمان جہاد کی تیاری کے لیے مالی حصہ لیں ، حضرت عثمانِ غنی ذوالنورین رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے کھڑے ہو کر عرض کی: یارسول اللہ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میں سازو سامان سے لدے ہوئے ایک سو اونٹ پیش خدمت کرتا ہوں ،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے خطبہ جاری رکھا،حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ دوبارہ کھڑے ہوئے اور عرض کی:یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّممیں دو سو اونٹ بمع سازو سامان پیش خدمت کرتا ہوں،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے خطبہ جاری رکھا،حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ عَنْہ تیسری مرتبہ کھڑے ہوئے اور عرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّممیں تین سو اونٹبمع سازو سامان پیش خدمت کرتا ہوں حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام منبر سے اتر آئے اور فرمایا: عثمان (رَضِیَ اللہُ عَنْہ) کے اس عمل کے بعد انہیں آخرت میں اور کس چیز کی ضرورت ہے جو نجات کے لیے درکار ہو! یہ دوبار ارشاد فرمایا۔([1]) (مشکوۃ)
حضرت شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :کسی بزرگ سے لوگوں نے پوچھا سخاوت اور شجاعت میں سے کون سی صفت زیادہ بہتر ہے؟ فرمایا: جس شخص کو سخاوت کی فضیلت حاصل ہے اسے شجاعت کی حاجت نہیں ۔
بنشت ست بر گورِ بہرام گور کہ دستِ کرم بہ کہ بازوئے زور
بہرام گور کی قبر پر لکھا ہوا ہے کہ زورِ بازو سے دست کرم بہتر ہے
زکوۃِ مال بدر کن کہ فُضلۂ رز را چو باغبان ببرد بیشتر دہد انگور
اپنے مال سے زکوۃ نکالتا رہ کیونکہ جب باغبان انگور کی بیل کی زائد شاخوں کو کاٹ پھینکتا ہے تو انگور کی فصل میں زیادتی ہوجاتی ہے۔([2]) (گلستان)
حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ سے کہیں سفر کو روانہ ہوئے اَثنائے سفر میں آپ یہودیوں کے ایک گاؤں میں پہنچے، آپ نے دریافت کیا: آیا یہاں کسی مسلمان کا گھر بھی ہے؟ جواب ملا: ہاں ! یہاں ایک بدو مسلمان رہتا ہے جو بے حدغریب ہے،آپ اس کے ہاں پہنچے اس غریب بدو نے اپنی بیوی سے کہا: ایک مہمان آگیا ہے اس کے کھانے کا کچھ انتظام کرو،بیوی نے جواب دیا: گھر میں سوائے جو کے تھوڑے سے آٹے کے اور کچھ نہیں ہے،شوہر بولا : کہیں سے گندم کا آٹا ادھار لے آؤ، بیوی نے پاس پڑوس سے گندم کا آٹا ادھار لینے کی کوشش کی مگر ناکام رہی، گھر آکر اپنے شوہر سے بولی: گندم کا آٹا تو کہیں سے نہیں مل سکامجبوراً جو کی تین روٹیاں پکا کر حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے سامنے رکھ دی گئیں ،آپ نے سوچا کہ اس شخص کے تین بچے ہیں اور دو یہ میاں بیوی خود ، یہ پانچ ہوئے اورچھٹا میں شامل ہوگیا ہوں ، اور روٹیاں صرف تین ہیں ، یہ سوچ کر آپ نے چھٹا حصہ یعنی آدھی روٹی خود کھا کر باقی واپس کردی کہ خود کھائیں اور بچوں کو کھلائیں ، جب آپ رخصت ہونے لگے تو فرمایا: تم کسی دن مدینہ آنا اور عمر کا نام پوچھ کر مجھے ملنا۔
کچھ مدت بعد اس بدو کی بیوی نے اصرار کیا کہ مدینہ جا کر عمر(رَضِیَ اللہُ عَنْہ ) سے ملے، وہ شخص مدینہ پہنچا اورآپ سے ملا، اس وقت آپ کا تجارتی قافلہ مدینہ میں پہنچ رہا تھا بہت سے اونٹوں پر مال لدا ہوا تھا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے وہ سب اونٹ بمع مال و دولت اس بدو کو بخشدیئے ے وہ بدو اپنی خوش بختی پر نازاں و فرحاں واپس لوٹ گیاحضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہو کر یہ ماجرا بیان کیا اور عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) آیا میں نے اس میزبان بدو کی میزبانی کا حق ادا کردیا؟ سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع