30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مجھ سے زیادہ غریب ہے اس نے یہ سِری اس کے گھر بھیج دی دوسرے نے سوچا کہ میرا ہمسایہ مجھ سے زیادہ اس سِری کا مستحق ہے اس نے تیسرے کے گھربھیج دی تیسرے نے بھی یہی سوچا اور سِری چوتھے کے گھر بھیج دی اسی طرح چوتھے نے پانچویں کے گھر بھیجی پانچویں نے چھٹے کے ہاں پہنچادی حتی کہ چھٹے نے بھی ساتویں کے گھر بھیجی، تو یہ وہی شخص تھا جس نے سب سے پہلے اپنے ہمسایہ کے ہاں بھیجی تھی اس طرح پھرپھرا کر اسی کے ہاں پہنچ گئی ۔([1]) (احیاء العلوم)
اُمُّ المؤمنین رَضِیَ اللہُ عَنْہا کی شان سخاوت
ایک بار حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دو تھیلیاں چاندی سے بھری ہوئی اور ایک لاکھ اسی ہزار درہم ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی خدمت میں بطورِ نذرانہ بھیجے، اُمّ المومنین عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَانے حکم فرمایا: طباق لاؤ، خادمہ نے طباق پیش کردیا تو فرمایا: غربا و مساکین ، یتیموں اور بیواؤں کے لیے منادی کرادو کہ ابھی ابھی آئیں اور اپنا اپنا حصہ حاصل کرلیں ، یہ لوگ جمع ہوگئی تو آپ نے طباق بھر بھر کر مغرب سے پہلے پہلے ساری چاندی اور درہم بانٹ کر ختم کردیئے، مغرب ہوئی تو فرمایا: کچھ کھانے کو لاؤ کہ روزہ افطار کرلوں ،خادمہ نے روٹی اور روغن زیتون پیش خدمت کیا آپ نے اس سے روزہ افطار کیا خادمہ نے عرض کی: ام المؤمنین آپ نے تمام مال بانٹ دیا اگر آپ ایک درہم کا گوشت منگالیتیں تو بہتر تھا، فرمایا: ہاں ! اگر تم اس وقت یاد دلاتیں تو میں منگالیتی۔([2]) (کیمیائے سعادت)
صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ کیلئے ہے خدا کا رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم بس
حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں :غزوءہ تبوک کے موقعہ پر رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ہمیں حکم دیا کہ لشکر مجاہدین کی تیاری کے لیے چندہ دیں حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے اس فرمان سے مجھے نہایت مَسَرَّت ہوئی اس لیے کہ ان دنوں میں کافی مالدار تھا، میں نے دل میں کہا: آج میں اس کارِ خیر میں ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ پرضرور سبقت لے جاؤں گا کیونکہ اس سے پہلے میں کبھی بھی ان پر سبقت حاصل نہ کر سکاتھا، میں خوشی خوشی اپنے گھر آیا اور اپنے تمام مال کا نصف حصہ لے کر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں پیش کردیاحضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے فرمایا: اے عمر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑکر آئے ہو؟ میں نے عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) جس قدر مال لایا ہوں اسی قدر اپنے گھر والوں کے لیے چھوڑ آیا ہوں ، دریں اَثناء حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ بھی آگئی اور اس شان سے آئے کہ اپنا تمام مال و متاع اور گھر کا سار اسازو سامان اٹھا کر لے آئے تھے حضور اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ان سے فرمایا: اے ابوبکر!اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ !( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میں اپنے گھر والوں کے لیے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو چھوڑ کر آیا ہوں ۔ ؎
پروانے کوچراغ تو بلبل کو پھُول بس صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس
یہ ماجرا سن کر میں کہہ اٹھا ابوبکر صدیق (رَضِیَ اللہُ عَنْہ ) پر میں کسی کارِ خیر میں ہر گز سبقت حاصل نہیں کرسکتا۔([3]) (مشکوۃ)
حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی شانِ سخاوت
غزوءہ تبوک کی تیاری کے لیے سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اعلان فرمایا: سب لوگ مسجد نبوی میں جمع ہوں ،مسلمان جمع ہوگئی تو آپ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع