30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمہ: تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو اگر تم ستر بار ان کی معافی چاہو گے تو اللہ ہر گزنہیں بخشے گا یہ اس لئے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے منکر ہوئے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔([1]) (خزائن العرفان)
یہودِ بنی نضیر کو ان کی سازشوں اور شرارتوں کی بناء پر جب ۴ ہجری میں سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے جلا وطن کردیاتو ان کے اموال (اراضی اور نخلستان ) حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے قبضے میں آگئی حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے تمام انصار کو بلا کر فرمایا: اگر تم چاہو تو میں بنی نضیر کی اراضی اور نخلستان تم میں او رمہاجرین میں تقسیم کردوں اس صورت میں مہاجرین تمہارے گھروں میں بدستور رہیں گے اور تمہارے اموال میں بھی حصہ دار رہیں گے اور اگر چاہو تو یہ اموال مہاجرین کو بانٹ دوں اس صورت میں مہاجرین تمہارے گھروں سے اور اموال سے بے دخل ہوجائیں گے۔ حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ اور حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے عرض کی: یارسول اللہ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) یہ تمام جائی داد آپ مہاجرین کو بانٹ دیں اس صورت میں بھی مہاجرین ہمارے گھروں میں بدستور رہیں گے اور ہماری جائی داد میں بھی شریک رہیں گے یہ سن کر تمام انصار بول پڑے : یارسول اللہ ! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) ہم اس پر راضی ہیں ، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: یااللہ !تو انصار اور اَبنائے انصار پر رحم فرما، آپ نے بنو نضیر کی اراضی اور نخلستان مہاجرین کو بانٹدیں۔([2]) (زرقانی علی المواہب ، فتوح البلدان بلاذری)
۷ ہجری میں جب خیبر فتح ہوا مالِ غنیمت میں مہاجرین کو اس قدر مال و متاع حاصل ہوگیا کہ انہیں انصار کے اموال (اراضی اور نخلستان ) کی حاجت باقی نہ رہی انہوں نے انصار کے اموال جن سے مستفید ہورہے تھے سب کے سب انصار کو واپس کردیئے ے۔ ([3]) (مسلم)
ثَعْلَبَہ بن حاطب نے سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) آپ دعا فرمائی یں کہ اللہ مجھے مالدار بنادے میں وعدہ کرتا ہوں کہ اللہ نے مجھے بہت سا مال دے دیا تو میں زکوۃ ادا کرنے کے علاوہ غربا و مساکین اور یتیموں بیواؤں کی خیرات و صدقات کے ذر یعے مالی امداد کروں گا اور راہِ خدا میں کثرت سے مال خرچ کرتا رہوں گا،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: اے ثعلبہ ! تھوڑا مال جس کا تُو شکر ادا کرے بہتر ہے اُس سے جس کا شکر ادا نہ کرس کے ،چند یوم بعد ثعلبہ نے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی خدمت میں دوبارہ یہی درخواست کی اور کہا: اسی کی قسم جس نے آ پ کو سچا نبی بنا کر بھیجا کہ اگر وہ مجھے مال دے گا تو میں ہر حق والے کا حق ادا کروں گا،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے دعا فرمائی ی: یا اللہ! ثعلبہ کے مال میں برکت دے، ثعلبہ کی تھوڑی سی بکریوں میں اللہ تعالیٰ نے برکت دی اس کی بکریوں میں اضافہ ہونے لگا یہاں تک کہ مدینہ میں اس کی گنجائش نہ ہوئی، ثعلبہ بکریوں کو لے کر جنگل میں چلا گیا بکریوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے نمازِ پنجگانہ اور نمازِ جمعہ سے بھی غیر حاضر رہنے لگا، ایک مرتبہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے پوچھا: ثعلبہ کا کیا حال ہے؟ عرض کی گئی : یارسول اللہ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) اس کا مال بہت کثیر ہوگیا ہے اب تو جنگل میں بھی اس کے مال کی گنجائش نہ رہی،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: ثعلبہ پر افسوس ،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے زکوۃ کی وصولی کے لیے جو عامل مقرر کیے تھے وہ زکوۃ وصول کرتے ہوئے ثعلبہ کے پاس بھی پہنچے انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے حکم سے زکوۃ وصول کرنے آئے ہیں ، ثعلبہ کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع