30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: ابوطلحہ (رَضِیَ اللہُ عَنْہ) تم نے ہمارے مہمان کے ساتھ جو نیک سلوک کیا اللہ تعالیٰ اس سے بہت خوش ہوگیا اور حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے یہ آیت تلاوت فرمائی: وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ ([1]) (اور وہ دوسروں کی ضروریات کو اپنے آپ پر مقدم رکھتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو) ([2]) (بخاری)
خیرات کرنے والوں پر طعنہ زنی کرنے والے منافق
جب آیت صدقہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں صدقہ لانے لگے جب کوئی صحابی زیادہ مال لاتا تو منافق کہتے : دیکھو تو سہی یہ شخص دکھلانے کے لیے کتنا مال لے آیا ہے، اور جب کوئی غریب صحابی تھوڑا مال لے کر آتا تو کہتے: بھلا اس کو صدقہ دینے کی کیا ضرورت تھی یہ جو تھوڑا سا مال لے آیا ہے اللہ کو اس کی کیا پروا ہے۔
چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ عَنْہ چار ہزار درہم لائے اور عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میرا کل مال آٹھ ہزار درہم تھا چار ہزار تو یہ راہِ خدا میں حاضر ہیں اور چار ہزار میں نے اپنے اہل وعیال کے لیے رکھ لیے ہیں ۔
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: جو تم نے دیا اللہ اس میں بھی برکت فرمایاے اور جو روک لیا اس میں بھی برکت فرمایاے۔
حضرت ابوعقیل انصاری رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایک صاع کھجوریں لے کر حاضر ہوئے عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)میں نے آج رات پانی کھینچنے کی مزدوری کی، اس کی اجرت دو صاع کھجوریں ملیں ایک صاع تو میں اپنے گھر والوں کے لیے چھوڑ آیا اور ایک صاع راہِ خدا میں حاضر ہے، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے خوش ہو کر اس کی قدر و منزلت دکھانے کے لیے فرمایا: ان کھجوروں کو جمع شدہ مال و متاع کے ڈھیر کے اوپر ڈال دو۔
منافقین نے ان پر طعن کی، اللہ تعالیٰ نے منافقین کی مذمت میں یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی:
اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْؕ-سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ٘-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۹) ) پارہ ۱۰، رکوع۱۶) ([3])
ترجمہ:وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے تو ان سے ہنستے ہیں (اور صدقہ کی قلت پر عار دلاتے ہیں ) اللہ ان کی ہنسی کی سزا دے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
اِن آیات کے نازل ہونے سے جب منافقین کا نفاق کھل گیا اور مسلمانوں پر ظاہر ہوگیا تو منافقین سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہو کر معذرت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمآپ ہمارے لیے بخشش کی دعا فرمائی یں ، اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْؕ-اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ
الْفٰسِقِیْنَ۠(۸۰)([4]) (پارہ۱۰، رکوع۱۶)
[1] ترجمۂ کنز الایمان:اوراپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو۔ (پ۲۸،الحشر:۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع