30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعنی انسان کی دنیا اور آخرت کے جملہ امور و معاملات میں کامیابی یا ناکامی اس کی جدوجہد اور سعی و کوشش کا نتیجہ ہے لیکن اس کے باوجود یہ بھی واضح کردیا ہے کہ انسان کی تمام تر جدوجہد، سعی و کوشش اور اسباب و وسائل اختیار کرنے سے نتائج کا مرتب ہونا یا نہ ہونا صرف اللہ تعالیٰ کی مرضی اور مشیت پر موقوف ہے۔
پس حقیقت کا تقاضا یہی ہے کہ انسان حکمِ الہٰی کی تعمیل میں اسباب و ذرائع اور وسائل کو اختیار کرے، اپنے دنیاوی اور دینی امور کو سر انجام دینے میں حتی الوسع بھرپور جدوجہد کرے ،اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ضرور کوشش کرے، ہر تدبیر سے کام لے لیکن اس کا اعتماد اور بھروسہ نہ تو اسباب و ذرائع پر ہو ،نہ اپنی جدوجہد یا کوشش و تدبیر پر بلکہ اس کا اعتماد اور بھروسہ صرف اللہ پرہوجو فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ(۱۶) ([1])اور عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۱) ([2])ہے۔
کیمیائے سعادت میں امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیْ فرماتے ہیں :اسباب کو چھوڑ دینا توکل نہیں بلکہ توکل یہ ہے کہ دل سے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر بھروسہ رکھے اسباب پر نہ رکھے، آدمی خلائق پر نظر نہ رکھے اور کسی سبب پر بھی اعتماد نہ کرے، صرف مُسبِّبُ الاسباب کی ذات پر ہی اعتماد کرے۔([3])
اللہ تعالیٰ کا ارشاد :
وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠(۱۲) (پ۱۳، ع ۱۴) ([4])
اور مسلمانوں کو چاہئے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد :
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ(۱۵۹) (پ۴، اٰل عمران) ([5])
بے شک جو لوگ خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں اللہ ان کو دوست رکھتا ہے۔
حضرت امیرالمؤمنین علی مرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں : توکل بدن کو عبودیت میں ڈالنا ، قلب کو رَبوبیت کے ساتھ متعلق رکھنا، عطا پر شکر ، بلا پر صبر کا نام ہے۔([6]) (خزائن العرفان)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے پوچھا: یارسول اللہ!(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میں اپنے اُونٹ کو باندھ کر (اللہ تعالیٰ پر) توکل کروں یا اُونٹ کوکھلا چھوڑدوں اور توکل کروں ؟ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: اس کو باندھ دے اور (پھر) توکل کر۔ (ترمذی) ([7])
رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: خوشی ہے اس کیلئے جسے اسلام کی ہدایت ملی ہو، معیشت بقدر بسر اوقات حاصل ہو اور وہ اس پر قانع ہو۔ (ترمذی ، نسائی ) ([8])
رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: اگر کسی آدمی کے پاس دو وادیاں سونے کی بھری ہوں تو وہ ان کے علاوہ تیسری کی بھی خواہش کرے گا اور نہیں بھرتی آدمی کے پیٹ کو(کوئی بھی چیز) سوائے خاک کے ، اور جو کوئی توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ (بخاری ، مسلم) ([9])
رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: آدمی (جوں جوں ) بوڑھا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی دو چیزیں جو ان ہوتی (چلی جاتی) ہیں ، ایک اَمَل(
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع