30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھا کہ موت آجائے اور وہ سامان میرے پاس موجود ہو، اس کے بعد حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّماپنے دولت خانہ میں تشریف لے گئی ے۔([1]) (ابوداؤد)
سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اپنے اصحاب سے فرمایا: صدقہ دو،ایک شخص نے عرض کی: یارسول اللہ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میرے پاس ایک دینار ہے، فرمایا: اس کو اپنی جان پر خرچ کر،اس نے عرض کی:میرے پاس ایک اور ہے ، فرمایا: اس کو اپنی بیوی پر خرچ کر،وہ بولا: میرے پاس ایک اور ہے، فرمایا: اس کو اپنی اولاد پر خرچ کر، اس نے عرض کی: میرے پاس ایک اور ہے، فرمایا: اس کو اپنے خادم پر خرچ کر، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، فرمایا: اس کی نگاہ تجھے زیادہ ہے یعنی جہاں اچھا موقع دیکھووہاں خرچ کرو۔([2])(ابوداؤد ، نسائی )
سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: جس بستی میں کسی شخص نے اس حال میں صبح کی کہ وہ رات بھر بھوکا رہا اس بستی سے اللہ کی حفاطت و نگرانی کا وعدہ ختم۔([3]) (مسند امام احمد)
سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: مال میں زکوۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔ ([4]) (ترمذی)
ایک دن رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّماُحد (پہاڑ) کی طرف تشریف لے چلے،حضرت ابوذر غفاری رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں :میں حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے ہمراہ تھا، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: اے ابوذر!میں نے عرض کی: لبیک یارسول اللہ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)، فرمایا:آج جو لوگ زیادہ (مال و دولت) رکھتے ہیں کل قیامت کے دن وہی مفلس ہوں گے بجز ان کے جو ایسا کریں ، آپ نے اپنے ہاتھ دائیں بائیں اور سامنے پیچھے چلاتے ہوئے کہا اور ایسے لوگ کم ہی ہوں گے، اور پھر فرمایا:ابوذر، میں نے عرض کی: لبیک یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میرے ماں باپ آپ پر قربان، فرمایا:مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ میرے پاس اُحد جتنی دولت ہو اور میں اسے راہِ خدا میں خرچ بھی کرتا رہوں لیکن مروں تواس میں سے دو قیراط (بلا خرچ کیے ہی ) چھوڑ جاؤں ، میں نے عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کیا آپ کی مراد دو قِنْطار سے ہے؟ فرمایا: نہیں دو قیراط، پھر فرمایا: ابوذر! تم زیادہ کی طرف جاتے ہو اور میں کم کی طرف۔([5])
(بخاری ، مسلم ، ترمذی، نسائی )
ایثار و سخاوتِ صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ
حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ اسلام لائے تو اس وقت تجارتی نفع کی آمدنی سے آپ کے پاس چالیس ہزار درہم جمع تھے، اس میں سے وہ مسلمان فقراء و مساکین کی امداد اور غلام خرید کر آزاد کردینے میں رقم خرچ کرتے رہے، جب حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے ہمراہ ہجرت کی تو اس وقت صرف پانچ ہزار درہم آپ کے پاس باقی بچے تھے جو آپ نے اسلام پر قربان کردیئے۔([6])
ایثار و سخاوتِ علی مرتضٰی رَضِیَ اللہُ عَنْہ
[2] ابوداود، کتاب الزکاۃ، باب فی صلۃ الرحم، ۲/۱۸۴، الحدیث: ۱۶۹۱و نسائی، کتاب الزکاۃ ،ص۴۱۶، الحدیث: ۲۵۳۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع