30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لکڑی حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی خدمت میں پیش کردی فرمایا: اب تو اُونٹ پرسوارہوجا،میں سوار ہوگیا حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے وہ لکڑی اونٹ کو تین چار مرتبہ ماری پھر وہ اونٹ اس قدر تیز رفتار ہوگیا کہ مجاہدین کی اچھی اچھی سانڈنیوں سے بھی آگے نکل جاتا تھا، میں اونٹ کی رفتار کو کم کرتے ہوئے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے برابر چلتا رہا اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے باتیں کرتا رہا اچانک حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: اے جابر ! تم یہ اونٹ میرے ہاتھ فروخت کرتے ہو؟میں نے عرض کی: یارسول اللہ !(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ) میں یہ اونٹ بلامعاوضہ آپ کی نذر کرتا ہوں ،فرمایا: یوں نہیں ، فروخت کرو، میں نے عرض کی: یارسول اللہ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) تو پھر اس کی قیمت بھی آپ ہی بتائیں ، فرمایا:ایک درہم میں لیتا ہوں ،میں نے عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) یہتو بہت تھوڑی قیمت ہے،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے فرمایا: اچھا دو درہم لے لو، میں نے عر ض کی: یہ بھی کم ہے یہاں تک کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمبڑھاتے بڑھاتے ایک اوقیہ تک پہنچے، میں نے عرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّماس قیمت پر آپ راضی ہیں ؟فرمایا:ہاں میں راضی ہوں ،میں نے عرض کی:توبس یہ اونٹ آپ کا ہوچکا، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا:یہ اونٹ میں نے خریدلیا،جب ہم مدینہ پہنچ گئی تو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اپنے مکان پر تشریف لے گئی اور میں اپنے گھر آگیا، اگلی صبح میں وہ اونٹ لے کر گھر سے روانہ ہوا اونٹ کو مسجد نبوی کے دروازے پر باندھ کر میں حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں آیا اور بیٹھ گیا،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام جب مسجد سے باہر تشریف لائے تو دریافت فرمایا: یہ اونٹ کیسا ہے؟لوگوں نے عرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمیہ اونٹ جابر لے کر آیا ہے،فرمایا:جابر کہاں ہے؟ جب میں حاضر ہوا تو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا:اے میرے بھائی کے بیٹے اونٹ کو لے جاؤ یہ تیرا ہی ہے اور پھر حضرت بلال رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے فرمایا: جابر کو لیجاکر اسے ایک اوقیہ دے دو، حضرت بلال نے مجھے ایک اوقیہ سے بھی کچھ زیادہ دے دیا،اس دن سے میرے مال میں اسقدر برکت ہوئی کہ میں بہت بڑا مالدار بن گیا۔([1]) (سیرتِ ابن ہشام)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی چادر میرا کفن بنے
حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت ایک چادر لے کر آئی ،اس نے عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میں نے یہ چادر اپنے ہاتھ سے بُنی ہے، میں آپ کے پہننے کے لیے لائی ہوں ، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو ضرورت تھی اس لیے آپ نے وہ چادر لے لی،پھر حضور وہی چادر بطورِ تہبند باندھے ہمارے پاس تشریف لائے، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے ایک نے عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کیا ہی اچھی چادر ہے یہ مجھے پہنادیجئے۔
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: ہاں ، کچھ دیر بعد حضور مجلس سے تشریف لے گئی پھر واپس آئے اور وہ چادر لپیٹ کر اُس صحابی کو عنایت فرمادی، حاضرین نے اس شخص سے کہا: تو نے اچھا نہ کیاکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے اس چادر کا سوال کیا حالانکہ تجھے معلوم ہے کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کسی سائل کا سوال رد نہیں فرماتے وہ بولا: اللہ کی قسم ! میں نے صرف اس لیے سوال کیا کہ جس دن میں مر جاؤں یہی چادر میرا کفن بنے(اور حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی برکت سے عذابِ قبر سے محفوظ رہ سکوں اور اللہ کی رحمت سے حصہ پاؤں )۔ حضرت سہل رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ (واقعی) وہ چادر اس کا کفن ہی بنی۔([2]) (بخاری)
دو جہاں کی بہتریاں نہیں کہ امانی ٔدل وجاں نہیں
کہو کیا ہے وہ جو یہاں نہیں مگر اک’’ نہیں ‘‘ کہ وہ ہاں نہیں
سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: آدمی ہمیشہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میرا مال میرا مال، مگر غور کر کہ تیرے لیے اس کے سوا کیا ہے کہ تو کھائے اور نیست و نابود کردے، پہنے اور اِسے ردی کر ڈالے، صدقہ دے(خیرات کر)تاکہ ہمیشہ کیلئے قائم رہے۔([3]) (مسلم)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع