30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سخت تر بخل کا مرض ہے۔ ([1]) (ترمذی، دارقطنی)
سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد :آدمی کا ہر (نیک) سلوک صدقہ (خیرات) میں داخل ہے، آدمی جو کچھ اپنی جان پر اور اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتا ہے وہ بھی اس کے حق میں صدقہ ہی لکھا جاتاہے آدمی اپنی عزت بچانے کی خاطر جو خرچ کرے وہ بھی صدقہ ہے ۔‘‘اور انسان کسی طرح کا (جاءز)خرچ کرے اللہ پر اس کا اجر دینا ضروری ہے۔ ([2]) (بخاری، مسلم، بیہقی درشعب)
سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: ایک درہم ایسا ہوتا ہے جو ایک لاکھ درہم سے افضل ہوتا ہے،صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:یہ کب ہوتا ہے یارسول اللہ؟ (رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے) فرمایا: ایک شخص کے پاس دو درہم ہوں اور وہ ایک درہم اللہ کی راہ میں دے دے تو یہ ایک درہم اس لاکھ درہم سے زیادہ افضل ہے کہ جو شخص بہت مال رکھتا ہو اور اس میں سے ایک لاکھ درہم دے دے۔ ([3])
اگریہ پہاڑ میرے لیے سونا بن جائے
حضرت ابوذر رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں :ایک روز میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ہمراہ تھا جب حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے کوہِ اُحد کو دیکھا تو فرمایا: اگر یہ پہاڑ میرے لیے سونا بن جائے (تو بھی) میں پسند نہیں کروں گا کہ اس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس تین راتوں سے زیادہ رہ جائے بجز اس دینار کے جسے میں ادائے قرض کے لیے رکھ چھوڑوں ۔ ([4]) (بخاری)
ایک روز سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے عصر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیرتے ہی حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم گھر میں تشریف لے گئی اور پھر جلد ہی واپس تشریف لے آئے، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو تعجب ہواحضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: مجھ کو نماز میں خیال آگیا کہ صدقہ کا کچھ سونا گھر میں پڑا ہے، مجھے یہ بات اچھی نہ لگی کہ رات ہو جائے اور وہ گھر میں پڑا رہے اس لیے جا کراسے تقسیم کردینے کے لیے کہہ آیا ہوں ۔ ([5]) (بخاری)
عطائے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم
حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں :میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ہمراہ غزوءہ ’’ذَاتُ الرِّقَاع ‘‘میں گیاجب واپسی ہوئی تو چونکہ میرا اونٹ نہایت کمزور اور لاغر تھا اس لیے میں بار بار لشکر کے پیچھے رہ جاتا تھا،ایک مقام پر حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے مجھ سے فرمایا:اے جابر! کیا بات ہے جو تو پیچھے رہ جاتا ہے؟ میں نے عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)میرا اونٹ لاغر ہے، وہ لشکر کی سواریوں کے برابر چل نہیں سکتا،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا:اس کو بٹھا، میں نے اونٹ کو بٹھایا تو فرمایا: کسی درخت سے ایک لکڑی توڑ کر مجھے دے دے،میں نے ایک
[1] ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی السخائ، ۳/۳۸۷، الحدیث: ۱۹۶۸و احیاء العلوم، کتاب ذم البخل وذم حب المال، ۳/۳۰۳
[2] اللّٰہعَزَّوَجَلَّ پر کسی بھی نیک عمل کا اجر دینا واجب نہیں ، ہاں اس نے اپنے کرم سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ نیک عمل پر ثواب عطا فرمائے گا ۔(ماخوذ ازبہارِ شریعت،۱/۲۵)لہٰذا یہاں بھی یہی مراد ہے کہ اِس خرچ کرنے کا ثواب اُس کے ذمۂ کرم پر ہے ۔ علمیہ… بخاری،کتاب الادب، باب کل معروف صدقۃ ،۴/ ۱۰۵، الحدیث: ۶۰۲۱وشعب الایمان للبیہقی، باب فی الزہد و قصر الامل،۷/۳۹۲، الحدیث۱۰۷۱۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع