30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک مخلص مومن بہ طیب خاطر اپنی حلال کمائی میں سے مرغوب ترین اور بہترین چیز خَالِصَۃً لِوَجْہِ اللہجب اپنے پروردگار کی راہ میں قربان اور صدقہ (خیرات) کرتا ہے دین اسلام کی سر بلندی کے لیے خرچ کرتا اور غرباء و مساکین یتیموں ، بیواؤں اور دوسرے مستحق افراد کو محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر دیتا اور تقسیم کرتا ہے اور جملہ حقداروں کے حقوق ادا کرتا ہے تو وہ اپنے قلب کے حب مال سے پاک ہونے کی قطعی او ر واضح دلیل پیش کرتا ہے۔
دین و دنیا ہر دو کے آید بدست ایں فضولیہا مکن اے خودپرست
(بوعلی قلندر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
دین بھی او ردنیا بھی ، یہ دونوں تجھے کیونکرحاصل ہوسکتی ہیں ، اے خود پرست یہ بے ہودگیاں نہ کر۔
ہم خدا خواہی وہم دنیائے دُوں ایں خیال ست و محال ست و جنوں
(مولانا روم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
تو اللہ کا وصال بھی چاہتا ہے اور کمینی دنیا کا طلب گار بھی ہے، یہ تیرا محض خیال ہے، یہ امر محال ہے اور پاگل پن ہے۔
سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: تین باتیں ایسی ہیں کہ میں بہ قسم کہہ سکتا ہوں
اَوّل: یہ کہ صدقہ (خیرات کرنے) سے مال کم نہیں ہوتا۔صدقہ دینا (خیرات کرتے رہنا) چاہیے۔
دوم: یہ کہ اگر کوئی شخص اپنا حق اللہ کے واسطے چھوڑ دے (معاف کردے) تو اللہتعالیٰ اس کے باعث قیامت کے دن اس کی عزت بڑھا دے گا۔
سوم: یہ کہ جو شخص اپنے اوپر سوال کا دروازہ کھولتا ہے (لوگوں سے مانگنا شروع کر دیتا ہے) اللہتعالیٰ اس پر محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔([1])
زکوۃِ مال بدر کن کہ فضلۂ رُز را چوباغباں ببرد بیشتر دہد انگور
(حضرت سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
مال کی زکوۃ نکال دے کہ باغبان جب انگور کی بیل کی فضول شاخیں کاٹ دیتا ہے تو انگور کا پھل زیادہ لگتا ہے۔
بدی را بدی سہل باشد جزا اگر مردی اَحسِن اِلٰی مَن اَسا
برائی کا بدلہ بُرائی سے دینا آسان ہے، اگر تو مرد ہے تو جو تجھ سے برائی کرے تو اس سے نیکی کر۔
ہر کہ بر خود درِ سوال کشاد تا بہ میرد نیاز مند بود
جس شخص نے خود پر سوال کا دروازہ کھول دیا، مرتے دم تک وہ نیاز مند ہی رہے گا۔
آز بگذار و پادشاہی کن گردنِ بے طمع بلند بود
( شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
حرص (لالچ) چھوڑ دے اور بادشاہی کر ، بے طمع شخص کی گردن اونچی رہتی ہے۔
اہل و عیال پر خرچ کرنا زیادہ اجر کا موجب ہے
حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ قبیلہ بنو سلیم کا ایک شخص رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا عرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کیا اپنے گھر والوں کی خدمت کا کچھ اجرو ثواب ملتاہے؟ فرمایا: دِیْنَارٌ اَنْفَقْتَہٗ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَدِیْنَارٌ تَصَدَّقْتَ بِہٖ عَلٰی مِسْکِیْنٍ وَدِیْنَارٌ اَنْفَقْتَہٗ عَلٰی اَھْلِکَ اَعْظَمُھَا اَجْرًا الَّذِیْ اَنْفَقْتَہٗ عَلٰی اَھْلِکَ۔([2]) (ایک دینار تو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع