30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہویا کپڑا دیا ہو اس کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں پہنچادے۔([1])(طبرانی)
سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا : (قیامت کے دن)اللہ تعالیٰ فقیر سے اس طرح معذرت کرے گا جیسے آدمی آدمی سے کیا کرتا ہے، فرمایاے گا: میری عزت و جلال کی قسم! میں نے تجھ سے دنیا کو اس لیے نہیں ہٹایا تھا کہ تو میرے نزدیک حقیر تھا بلکہ اس لیے ہٹایا تھا کہ تیرے لیے آج بڑا اعزاز ہے، میرے بندے! ان جہنمی لوگوں کی صفوں میں چلا جا اور جس نے تجھے میری خاطر کھانا کھلایا ہو یا کپڑا دیا ہو وہ تیرا ہے وہ اس حالت میں جہنمی لوگوں میں جائے گا کہ یہ لوگ منہ تک پسینہ میں غرق ہوں گے وہ پہچان کر ان کو جنت میں داخل کرے گا۔([2]) (ابن حبان)
ایک مرتبہ سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا : لوگو ! تم اپنے مال سے دوسروں کو فا ئدہ نہیں پہنچاتے؟ تمہیں چاہیے کہ فراخ حوصلہ بنو، کشادہ دلی سے کام لو اور جو دو کرم کے دروازے کھول دو۔
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: حَسد دو اشخاص کے علاوہ کسی پر جاءز نہیں ( مناسب نہیں ) ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی تلاوت عطا فرمائی اور وہ اس کی تلاوت میں نہ دن دیکھتا ہے نہ رات ، دوم وہ جسے اللہ تعالیٰ نے دولت کی کثرت عطا فرمائی اور اسے (اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتے ہوئے نہ دن دیکھتا ہے نہ رات ۔([3]) ( مسلم)
واضح رہے کہ حسد دوقسم کا ہے، ایک یہ کہ دوسرے کی نعمت کا زوال چاہنا، یہ مطلقاً حرام ہے، دوم یہ کہ یہ آرزو کرنا کہ اللہ مجھے بھی یہ نعمت عطا کرے، اسے غِبْطَہ (رشک) کہتے ہیں یہ مطلقاً جاءز ہے، اس حدیث میں یہی مراد ہے۔
حضرت یحییٰ بن زَکریَّا عَلَیْہِمَاالسَّلَام نے ایک مرتبہ ابلیس کو دیکھا تو اس سے دریافت فرمایا: تو کس شخص کو سب سے زیادہ دشمن سمجھتا ہے اور کس شخص کو سب سے زیادہ دوست رکھتا ہے؟ ابلیس نے جواب دیا: میں زاہد بخیل کو سب سے زیادہ دوست رکھتا ہوں کیونکہ وہ بڑی محنت کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا ہے اور اس کا بخل اس کی تمام عبادت کو ضائع کردیتا ہے اور فاسق سخی کو میں اپنا بڑا دشمن سمجھتا ہوں کہ بڑے مزے کے ساتھ عیش و آرام کی زندگی بسر کرتا ہے لیکن سخاوت سے باز نہیں آتا میں اس کے اس عمل سے ڈرتا رہتاہوں کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس کو توبہ کرنے کی توفیق نہ دے دے اور وہ بخش نہ دیا جائے۔([4]) (کیمیائے سعادت)
سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: الصَّدَقَۃُ بُرھانٌ۔ ([5]) (مسلم )
صدقہ (خیرات) قطعی دلیل ہے۔
اللہ تعالیٰ کی عبادت و طاعت کی راہ میں حُبّ مال یعنی مال و دولت کی محبت ایک بھاری پتھر ہے، مال و دولت کے کمانے اور اس کو جمع کرنے کی خاطر آدمی نماز روزہ حج اور زکوۃ جیسے بنیادی فراءض کی ادائی گی میں کوتاہی کرتا ہے اور بعض اوقات سرکش نفس اور شیطان کے بہکائے میں آکر ان فراءض کو ترک کر بیٹھتا ہے، ماں باپ، بہن بھائی ، رشتہ داروں ، محلہ والوں اور عام لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتا، اور فسق و فجور ، بدکاریوں میں مبتلا ہو کر اپنی عاقبت بھی تبا ہ کرلیتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع