30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوگئی ہے اور میرا خیال ہے کہ اگر اس کو بات کرنے کی مہلت ملتی تو (ضرور) صدقہ (خیرات) کرتی، تو کیا اگر میں اس کی طرف سے صدقہ(خیرات) کروں تو اس کو ثواب ملے گا؟ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا:ہاں ۔ ([1]) (بخاری)
اُم المؤمنین حضر ت عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی( اور گوشت تقسیم کیا گیا) تو حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: اس میں سے کتنا باقی رہا؟ اُم المومنین نے عرض کی:بکری کے گوشت میں سے سوائے اس کے ایک شانہ کے کچھ نہیں بچا، (یعنی صرف ایک شانہ باقی رہ گیا ہے) حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا:بکری کا گوشت باقی رہ گیا سوائے اس کے ایک شانہ کے ، (یعنی جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہوگیاوہ بچ گیا باقی ضائع ہوا)۔ ([2]) (ترمذی)
قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ صَدَقَۃَ السِّرِّ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ۔([3]) (ابن حبان، اوسط طبرانی)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد : پوشیدہ (طور پر دیا ہوا) صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔
سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے حضرت ابوذر رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے فرمایا: اے ابوذر ! جب تم شوربا پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ کردو پھر اپنے ہمسایہ کے گھر والوں کو دیکھو اور اس میں سے ان کو پہنچاؤ۔([4]) (مسلم)
قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَاأَیُّہَا النَّاسُ أَفْشُواالسَّلَامَ وَ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِیَامٌ تَدْخُلُواالْجَنَّۃَ بِسَلاَمٍ۔([5]) (ترمذی)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد : اے لوگو! سلام پھیلاؤ(اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہنا عام کرو) اور طعام کھلاؤ (یعنی اہل و عیال، اعزا و اقارب، احباب، ہمسایوں اور غرباء و مساکین کوکھانا کھلایا کرو) اور نماز پڑھودرآنحالیکہ لوگ سورہے ہوں (یعنی رات کو جب اور لوگ غفلت کی نیند میں سوتے ہوں تم اٹھ کر نوافل پڑھا کرو اللہ کی عبادت میں مصروف رہا کرو) سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد : جو کھانا تم خود کھاتے ہو وہ تمہارے لیے صدقہ ہے جو تم اپنی اولاد کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لیے صدقہ ہے، جو تم اپنی بیوی کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لیے صدقہ ہے اور جو تم اپنے خادم کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لیے صدقہ ہے۔([6]) (الادب المفرد)
نہ ماند حاتم طائی و لیک تا بہ ابد بہ ماند نامِ بلند ش بہ نیکوئی مشہور
(شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
حاتم طائی دنیا میں نہ رہا لیکن اس کا نام بلند نیکی کے ساتھ مشہور رہ گیا۔
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: مسکین وہ نہیں جس کو ایک لقمہ یادو لقمے لوٹادیں ( یعنی دربدر پھر کر بھیک مانگنے والا گدا گر) لیکن مسکین وہ ہے جس کو وسعت (حاصل ) نہ ہو(یعنی محنت مزدوری کرنے کے باوجود اس کا اور اس کے اہل و عیال کا خرچ پورا نہ ہوتا ہو) اور ( وہ خرچ کی تنگی کے باوجود) لوگوں سے مانگنے میں حیاء کرتا ہو یا لوگوں سے چمٹ کر بھیک نہ مانگتا ہو۔([7]) (بخاری)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد : مال اور جاہ کی محبت آدمی کے دل میں نفاق کو اس طرح اُگاتی ہے جس طرح پانی سبزے کو اُگاتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع