30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:طَعَامُ الْاِثْنَیْنِ کَافٍ لِلثَّلا ثَۃِ وَطَعَامُ الثَّلا ثَۃِ کَافٍ لِلْاَرْبَعَۃِ۔ ([1]) (موطا امام محمد)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد : دو آدمیوں کاکھانا تین آدمیوں کے لیے کافی ہوتا ہے اور تین آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔
عَنْ أبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَ نَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ:بِءسَ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیْمَۃِ یُدْعٰی لَھَا الْاَغْنِیَآء وَیُتْرَکُ الْمَسَاکِیْنُ، مَنْ لَمْ یَاْتِ الدَّعْوَتَ فَقَدْ عَصَی اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ۔([2]) (مؤطا امام محمد)
حضر ت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے تھے:بدترین طعام ولیمے کا وہ طعام ہے جس کے لیے امیروں کو دعوت دی جائے اور مساکین کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت قبول نہ کرے اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
قَالَ رَسَوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللہُ تَعَالیٰ: أَنْفِقْ یَا ابْنَ آدَمَ أُنْفِقْ عَلَیْکَ۔([3]) (بخاری ، مسلم)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے ابن آدم ! تو(مستحقین پر راہِ خدا میں )خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا(یعنی تیری آمدنی مال و رزق میں فراخی کردوں گا)۔
قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الصَّدَقَۃَ لَتُطْفئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَ تَدْفَعُ مِیْتَۃَ السُّوْءءِ۔([4]) (ترمذی)
نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد ہے: بلاشبہ صدقہ (خیرات) اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کردیتا اور بری موت سے بچاتا ہے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِنَّ الصَّدَقَۃَ لَتُطْفِئُ عنْ اَھلِھَا حَرَّ الْقُبُوْرِ وَاِنَّمَا یَسْتَظِلُّ الْمُؤْمِنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِیْ ظِلِّ صَدَقَتِہٖ۔([5]) (ترمذی)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: بلاشبہ صدقہ (خیرات) کرنے والے سے صدقہ قبر کی گرمی کو ٹھنڈا کردیتا ہے اور مومن قیامت کے دن اپنے صدقہ (خیرات میں دیئے ے ہوئے مال و متاع ) کے سایہ ہی میں ہوں گے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللہِصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلسَّاعِیْ عَلَی الْاَرْمِلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ۔([6]) (بخاری، مسلم)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَکا ارشاد: بیوہ عورتوں اور حاجت مندوں کی مدد کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا اجرو ثواب میں مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ الَّذِیْ تَرُدُّہُ اللُّقْمَۃُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلٰـکِنِ الْمِسْکِینُ الَّذِیْ لَا یَجِدُ غِنًی یُغْنِیْہِ وَلَا یُفْطَنُ بِہٖ فَیُتَصَدَّقُ عَلَیْہِ وَلاَ یَقُومُ فَیَسْأَلُ النَّاسَ۔ ([7]) (بخاری ،مسلم)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: مسکین وہ نہیں جس کو ایک لقمہ یا دو لقمے یا ایک یادو کھجوریں (دوسرے دروازے پر) لوٹا دیں بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس ضروریات پوری کرنے کے لیے پیسے بھی نہیں اور نہ اس کی ظاہر حالت ایسی ہے کہ آسانی سے کسی کو اس کی حاجت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع