30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس (کھانے) کو میرے پاس پالیتا، اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی پلانے کو کہا تو تو نے مجھے پانی نہ پلایا، وہ کہے گا: پروردگار ! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جب کہ تو سارے جہانوں کا رب ہے، اللہ فرمایاے گا: میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی پلانے کی درخواست کی تھی تو تُو نے اسے پانی نہیں پلایا تھا اگر تو نے اسے پلادیا ہوتا تو اس (پانی) کو میرے پاس پالیتا۔([1]) (مسلم)
سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: ہر مسلمان پر صدقہ کرنا لازم ہے، صحابہعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم جسے کچھ میسر ہی نہ ہووہ کیا کرے؟ فرمایا: اپنے ہاتھوں سے کام کرے او ر پھر خود کو بھی فا ئدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے، صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اگر اس پر بھی اسے کچھ نہ ملے؟ فرمایا : کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرے، عرض کی گئی : اگر اس سے یہ بھی نہ بن پڑے؟ فرمایا: ایسی صورت میں اسے چاہیے کہ خود اپنا طرزِ عمل ٹھیک رکھے او ربرائی سے بچتا رہے کہ یہی اس کے حق میں صدقہ قرار پائے گا۔([2])
(بخاری ، مسلم)
سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: اے ابن آدم ! تیرے لیے ضرورت سے زاءد مال کا خرچ کردینا بہتر ہے اور اسے رو کے رکھنا بُرے نتائج کا حامل ہے۔([3]) (مسلم ، ترمذی)
سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: حضرت بلال رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: جو رزق تجھے عطا کیا گیا ہے اسے چھپا کر نہ رکھ اور جو کچھ تجھ سے مانگا جائے اس میں بُخل سے کام نہ لے، میں نے عرض کی: یارسولاللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمیہ کیسے ہو سکے گا؟ فرمایا: یاتو یہ رَوِش اختیار کرنی ہوگی یا جہنم کا ایندھن بننا پڑے گا۔([4]) (طبرانی فی الکبیر، ابن حبان، حاکم)
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا ارشاد: جو چاہو کھاؤ جو چاہو پہنو بشرطیکہ اسراف (فضول خرچی) اور اِتراہٹ (فخر و تکبر) ان دونوں سے بچے رہو۔ ([5]) (بخاری)
قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِنَّ اللہَ جَوَادٌ یُحِبُّ الْجُوْدَ وَیُحِبُّ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ وَیَکْرَہُ سَفْسَافَھَا۔ ([6]) (طبرانی درکبیر و اوسط ، حاکم ، بیہقی)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد ہے: بلا شبہ اللہ تعالیٰ جواد ([7])ہے، سخاوت کو پسند فرماتا ہے اور عمدہ اخلاق کو پسند فرماتا ہے اور گھٹیا اور نکمے اخلاق کو بُرا جانتا ہے۔
[2] بخاری، کتاب الادب، باب کل معروف صدقۃ، ۴/۱۰۵، الحدیث: ۶۰۲۲ و مسلم، کتاب الزکاۃ، باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف، ص۵۰۴، الحدیث: ۱۰۰۸
[3] مسلم، کتاب الزکاۃ، باب بیان ان الید العلیا خیر من الید السفلی، ص۵۱۶، الحدیث: ۱۰۳۶وترمذی، کتاب الزہد، ۴/۱۵۳، الحدیث: ۲۳۵۰
[6] المعجم الکبیر للطبرانی، ۶/۱۸۱، الحدیث: ۵۹۲۸ و شعب الایمان ، باب فی الجود والسخاء ، ۷/۴۲۶، الحدیث: ۱۰۸۴۰
[7] یہاں لکھا تھا کہ بلاشبہ اللّٰہ تعالیٰ بے حد سخی ہے، جبکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو سخی کہنے کے بارے میں امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنی کتاب ’’ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ‘‘ صفحہ۱۳۰ پرفرماتے ہیں: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو سخی نہیں جواد کہنا چاہئے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفتاوی رضویہ ،۲۷/۱۶۵میں فرماتے ہیں:اسمائے اِلٰہِیّہ تَوقِیْفِیَہ (یعنی قرآن وحدیث کی طرف سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ٹھہرائے ہوئے نام )ہیں، یہاں تک کہ اللّٰہ جَلَّ جَلَالُہ کا جواد ہونا اپنا ایمان مگر اُسے سخی نہیں کہہ سکتے کہ شَرْع (شَر۔ع) میں وارِد نہیں۔ مُفَسّرِشہیرحکیم الامت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:مُحاوَرَہ عَرَب میں عُمُوماً سخی اُسے کہتے ہیں جو خود بھی کھائے اوروں کو بھی کھلائے ۔ جواد وہ جو خود نہ کھائے اوروں کو کھلائے۔ اِسی لیے اللّٰہ تعالیٰ کو سخی نہیں کہا جاتا ہے۔ سخی کے مقابِل بخیل ہے (اور بخیل وہ ہے) جو خودکھائے اوروں کو نہ کھلائے ۔جواد کا مقابِل مُمسِک ہے (اورمُمسِک وہ ہے)جو نہ کھائے نہ کھانے دے۔ اللّٰہتعالیٰ کی تمام دُنیوی اخروی نعمتیں دُنیا کے لیے ہیں اُس (کی اپنی ذات) کے لئے نہیں۔ (مرآۃ المناجیح،۱/۲۲۱) لہٰذا ہم نے یہاں سخی کے بجائے جواد لکھا ہے۔ علمیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع