30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(پارہ ۵، رکوع ۳)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد :
اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی، ہر گز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (وہ مال سانپ بن کر اس کو طوق کی طرح لپیٹے گا اور یہ کہہ کر ڈستا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں )اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا۔([1]) (پارہ ۴، رکوع ۹)
وہی دائم باقی ہے اور سب مخلوق فانی، اُن سب کی مِلک باطل ہونے والی ہے تونہایت نادانی ہے کہ اس مالِ ناپائی دار پر بخل کیاجائے اور راہِ خدا میں نہ دیا جائے۔([2]) (خزائن العرفان)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ارشاد :
اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے(بخل کرتے ہیں اور مال کے حقوق ادا نہیں کرتے ، زکاۃ نہیں دیتے) انہیں خوش خبری سناؤ درد ناک عذاب کی جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں (اور شدتِ حرارت سے سفید ہوجائے گا) پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں (جسم کے تمام اطراف وجوانب، اور کہا جائے گا)یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھومزا اس جوڑنے کا۔ ([3]) (پارہ ۱۰، رکوع۱۱)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ارشاد :
ہر جان اپنی کرنی میں گروی ہے مگر د ہنی طرف والے(یعنی مومنین وہ گروی نہیں ، وہ نجات پانے والے ہیں انہوں نے نیکیاں کر کے اپنے آپ کو آزاد کرالیا ہے وہ اپنے رب کی رحمت سے منتفع ہیں ) باغوں میں پوچھتے ہیں مجرموں سے تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی ؟ وہ بولے :ہم(دنیا میں ) نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے(یعنی مساکین پر صدقہ خیرات نہ کرتے تھے) اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے اور ہم انصاف کے دن(قیامت) کو جھٹلاتے رہے یہاں تک کہ ہمیں موت آئی۔([4]) (پارہ۲۹، رکوع۱۶)
سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمایاے گا: اے ابن آدم! میں بیمار پڑا تو تو میری عیادت کو نہ آیا، ابن آدم جواب دے گا: پروردگار ! میں تیری عیادت کیسے کرتا جب کہ تو سارے جہانوں کا رب ہے، اللہ فرمایاے گا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار پڑا اور تو اس کی عیادت کو نہ گیا اگر تو اس کی عیادت کو گیا ہوتا تو مجھے اس کے پاس پاتا، اے ابن آدم ! میں نے تجھے کھانا کھلانے کو کہا تو تو نے مجھے کھانا بھی نہ کھلایا، وہ کہے گا: اے رب ! میں تجھے کھانا کس طرح کھلاتا جب کہ تو خود ہی سارے جہانوں کا پالنے والا ہے، اللہ فرمایاے گا: کیا تجھے نہیں معلوم کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانے کو مانگا تو تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا اگر تو نے اسے کھانا کھلادیا ہوتا تو
[1] ترجمۂ کنز الایمان:اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللّٰہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگااور اللّٰہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا۔ (پ۴، اٰل عمرٰن:۱۸۰)
[3] ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللّٰہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوش خبری سنائو درد ناک عذاب کی جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھومزا اس جوڑنے کا۔ (پ ۱۰، التوبۃ:۳۴-۳۵)
[4] ترجمۂ کنزالایمان: ہر جان اپنی کرنی (اعمال) میں گروی ہے مگر د ہنی طرف والے باغوں میں پوچھتے ہیں مجرموں سے تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئ ی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے یہاں تک کہ ہمیں موت آئی۔(پ ۲۹،المدثر:۳۸۔۴۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع