30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھلا جس کو خدا پر بھروسا نہ ہو وہ نیک اور پارسا کیسے ہوسکتا ہے؟نوجوان عذر کرنے لگا تو وہ بولی: عذر تو میں جانتی نہیں یا تو گھر میں میں رہوں گی یا یہ روٹی رہے گی،نوجوان نے فوراً وہ روٹی خیرات کردی۔([1])
اللہ عَزَّوَجَلَّکا ارشاد:
اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں (ان کے دلوں میں کوئی خواہش وطلب نہیں پیدا ہوتی) اس چیز کی جودیئے ے گئی اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اورجو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں یعنی اپنی ضروریات کو پس پشت رکھ کر دوسروں کی حاجات پوری کرتے ہیں ۔([2]) (پارہ۲۸، رکوع۴)
اللہ عَزَّوَجَلَّکا ارشاد:
بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ جنہوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا (خوش دلی اور نیت صالحہ کے ساتھ مستحقین کو صدقہ دیا اور راہ خدا میں خرچ کیا) ان کے دُونے ہیں اور ان کے لیے عزت کا ثواب ہے۔([3]) (پارہ ۲۷، رکوع۱۸)
اللہ عَزَّوَجَلَّکا ارشاد :
اور ہمارےدیئے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو (جو صدقات واجب ہیں وہ ادا کرو) قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا اور ہر گز اللہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آجائے (جو لوح محفوظ میں مکتوب ہے) اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ ([4]) (پارہ ۲۸، رکوع ۱۴)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد :
اے میرے محبوب ! میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارےدیئے ے میں سے کچھ ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سودا گری ہوگی(کہ خرید وفروخت یعنی مالی معاوضے وفدیئے ہی سے کچھ نفع اٹھایا جاس کے ) نہ یارانہ (کہ اس سے نفع اٹھایا جائے بلکہ بہت سے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے)۔ ([5]) (پارہ ۱۳، رکوع ۱۷)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد:
تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں (کہ کبھی آدمی ان کی وجہ سے گناہ اور معصیت میں مبتلا ہوجاتا ہے اور ان میں مشغول ہوکر امورِ آخرت کے سرانجام دینے سے غافل ہوجاتا ہے) اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے (تو لحاظ رکھو ایسا نہ ہو کہ اموال واولاد میں مشغول ہوکر ثواب عظیم کھو بیٹھو ) تو اللہ سے ڈرو جہاں تک ہو سکے (بقدر اپنی وسعت وطاقت کے طاعت وعبادت بجا لاؤ) اور فرمان سنو اور حکم مانو(اللہ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا) اور اللہ کی راہ میں خرچ کرواپنے بھلے کو اور جو اپنی جان کی لالچ سے بچایا گیا (اور اس نے اپنے مال کو اطمینان کے ساتھ حکم شریعت کے مطابق خرچ کیا )تو وہی فلاح پانے والے ہیں ، اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے(یعنی خوش دلی سے نیک نیتی کے ساتھ مال حلال سے صدقہ خیرات دوگے) وہ تمہارے لیے اس
[2] ترجمۂ کنزالایمان:اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس چیز کی جو دیئے گئ ے اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اورجو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں۔(پ۲۸،الحشر:۹)
[3] ترجمۂ کنزالایمان:بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ جنہوں نے اللّٰہ کو اچھا قرض دیا ان کے دونے ہیں اور ان کے لیے عزت کا ثواب ہے۔(پ ۲۷،الحدید:۱۸)
[4] ترجمۂ کنزالایمان:اور ہمارے دیئے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا اور ہر گز اللّٰہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آجائے اور اللّٰہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (پ ۲۸، المنٰفقون :۱۰-۱۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع