دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sarmaya e Aakhirat | سرمایہ آخرت

book_icon
سرمایہ آخرت

پئیں گے؟([1]) (سیر الاولیاء ،انوار الفرید)

شان بے نیازی

          حضرت نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں   سلطان علاؤ الدین خلجی نے قاصد بھیج کر درخواست کی: یا حضرت! بندہ آپ کی خدمت میں   حاضر ی کا خواستگار ہے اجازت ہو تو حاضر ہوجاؤں ،آپ نے جواب دیا: میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں  میں   غاءبانہ دعا کرتا ہوں  اور غَیبت میں   دعا کرنے کا اثر بھی ہوجاتا ہے، لیکن سلطان نے بار بار حاضری  کے  لیے اصرار کیاتو کہلا بھیجا:

          خانۂ ایں  ضعیف دو در دارد اگر شاہ از یک در د رآید ، من از درِ دیگر بیروں  روم۔

اس ضعیف  کے  گھر  کے  دو دروازے ہیں    بادشاہ اگر ایک دروازے سے اندر آئے گا تومیں   دوسرے دروازے سے باہر نکل جاؤں  گا۔ ([2])

زہدوتقویٰ چیست، اے مردِ فقیر              لا طمع بودن ز سلطان و امیر

بر درِ سلطان مرو رُویش مبیں             گنجِ قارون گر دہد رُویش مبین

گر بہ فاقہ جاں  برآید از قفس           چو مگس دستت مزن بر نانِ کس

بر سرِ خوانِ قناعت دست زن          تا نباشد دست بر فرماں شکن

پشتِ پا زن تختِ کیکاؤس را                         سر بدہ از کف مدہ ناموس را

الحذر از حُبِّ دنیا الحذر                               بہرِ نان و زر مخور خونِ جگر

          زُہدوتقویٰ کیا ہے اے مردِ فقیر! بادشاہ اور امیر سے بے طمع ہونا، بادشاہ  کے  دروازے پر نہ جا، اس کا منہ نہ دیکھ، بالفرض اگر وہ تجھے قارون کا خزانہ بھی دے تو بھی اس کی طرف نہ دیکھ، اگر فاقہ  کے  سبب جان پنجرۂ تن سے نکل جائے تو بھی مکھی کی طرح اپنا ہاتھ کسی کی روٹی پر نہ مار، قناعت  کے  دستر خوان پر ہاتھ مار تاکہ تجھے اللہ کی نافرمانی کی ہمت نہ ہو، تخت کیکاؤس ([3])  کو ٹھوکر مار، سردے دے لیکن ہاتھ سے آبرو نہ دے، پرہیز کردنیاکی محبت سے پرہیز کر ،روٹی اور زر  کے  لیے خونِ جگر مت پی۔    (حضرت بو علی قلندر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)

متوکل شہزادی

          شاہ شجاع کرمانی کی ایک بیٹی تھی اس کا رشتہ ایک بادشاہ نے مانگالیکن انہوں  نے منظور نہیں   کیا ایک دن شاہ شجاع نے ایک غریب لڑ کے  کو دیکھا جو نہایت خشوع خضوع  کے  ساتھ نماز پڑھ رہا تھا وہ لڑکا نماز سے فارغ ہوا تو آپ اسے اپنے ہمراہ شاہی محل میں   لے کر آئے اور اسی وقت اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کردیا۔        

          شہزادی رخصت ہو کر شوہر  کے  گھر آئی  تو اس نے ایک سُوکھی روٹی رکھی  ہوئی دیکھ کر پوچھا: یہ کیا ہے؟لڑ کے  نے کہا: رات بچ گئی  تھی اور روزہ افطار کرنے  کے  لیے رکھ لی ہے، یہ سن کر وہ الٹے پاؤں  پیچھے ہٹی، لڑکا بولا : میں   پہلے ہی جانتا تھا بھلا بادشاہ کی بیٹی میری غربت و ناداری پر کیوں  راضی ہوگی؟وہ بولی: بادشاہ کی بیٹی غربت و ناداری پر ناراض نہیں   ہے بلکہ اس لیے ناراض ہے کہ تم کو خدا پر بھروسا نہیں   ہے اور مجھے اپنے والد پر بھی تعجب ہے کہ مجھ سے تمہارے متعلق یہ کہا کہ یہ لڑکا بڑا نیک اور پارسا نوجوان ہے،



 [1] سیرالاولیاء، باب اول در فضائل خواجگان چشت، ص۱۴

 [2] سیرالاولیاء، باب اول در فضائل خواجگان چشت، ص۱۳۵

 [3] ایران کے ایک مشہور بادشاہ کا تخت۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن