30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذوق و شوق نصیب ہوگا،اخلاق و کردار میں بہتری آئے گی اور دنیا و آخرت کی بے شمار بھلائیاں نصیب ہوں گی۔
اس سلسلے میں علماء و مشائخ کی مختصر اور مفصل کئی کتب سے اِستفادہ کیا جاسکتا ہے مثلاً حضرت شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بوستانِ سعدی،مولانا جلال الدین رومی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی مثنوی مولانا روم،علامہ ابن جوزی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عیون الحکایات، حضرت شیخ فرید الدین عطار رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تذکرۃ الاولیاء اور ان کے علاوہ سیر الاولیائ،روض الفائق،قلیوبی شریف وغیرہ بھی معروف ہیں نیز اس حوالے سے ’’ مکتبۃ المدینہ ‘‘کی درج ذیل مطبوعات کا مطالعہ بھی انتہائی مفید و دلچسپ ہے:
عجائب القرآن و غرائب القرآن، عیون الحکایات، حکایتیں اور نصیحتیں،حضرت عمر بن عبد العزیز (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کی 425حکایات، 152رحمت بھری حکایات، کراماتِ صحابہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ) ،صحابہ کرام (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ)کی ایمان افروز حکایات اور خاص طور پر بچوں کے لیے نور کا کھلونا ،فرعون کا خواب ،نور والا چہرہ اور بیٹا ہو تو ایسا۔
زیر نظر کتاب ’’سرمایہء آخرت ‘‘ کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کہا جاسکتا ہے۔ یہ مولانا حکیم ابو الحسان محمد رمضان علی قادری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تالیف ہے جو ایک معروف عالم دین تھے اور باب الاسلام سندھ کے علاقے ’’ سنجھورو ‘‘(ضلع سانگھڑ)
سے تعلق رکھتے تھے۔
سرمایہ آخرت میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے نہایت سادہ انداز میں بڑی دلچسپ اور سبق آموز حکایات جمع کی ہیں ۔جابجا قرآنی آیات اور احادیث نبوی بھی نقل فرمائی ہیں ۔اردو، فارسی اور عربی میں اشعار بھی تحریر کیے ہیں اور اہل علم کے ذوق کے لیے کہیں کہیں فارسی اور عربی عبارات بھی نقل کر دی ہیں اورخاص بات یہ ہے کہ واقعات و حکایات کے حوالہ جات بھی تحریر کردئیے ہیں یوں اس کتاب کی اہمیت و اِفادِیت اور بڑھ جاتی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ مؤلف کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمیں اس کتا ب سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ !مجلس ’’ المدینۃ العلمیۃ ‘‘ اس کتاب کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہی ہے جس میں عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیے گئی کام کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:
٭…المدینۃ العلمیۃ کے انداز کے مطابق اس کتاب کو بھی زیور تخریج سے آراستہ کرنے کی کوشش کی گئی ی ہے اور احادیث و واقعات کی مقدور بھر تخریج کا اہتمام کیا گیاہے حوالہ جات بالتفصیل لکھے گئی ہیں یعنی کتاب، باب ، فصل، جلد و صفحہ نمبر اوررقم الحدیث کے ساتھ(مثلاًترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ،باب ماجاء فی شان الصور، ۴/۱۹۵، الحدیث ۲۴۳۹)۔کوشش کی گئی ی ہے کہ احادیث کا حوالہ مراجع حدیث سے دیا جائے لیکن کئی مقامات پر باوجود کوشش کے حدیث کی کتاب سے حوالہ نہ مل سکا تو مجبوراً دوسری کتاب سے حوالہ دیا گیا ہے ۔
٭…جن کتب سے تخریج کی گئی ی ہے آخر میں ان تمام کی فہرست’’ مآخذ و مراجع ‘‘ کے نام سے بنائی گئی ی ہے اور اس فہرست میں مصنفین و مؤلفین کے نام مع سنِ وَفات ، مطابِع اور سن طباعت بھی ذکر کر دئیے گئی ہیں ۔
٭…چند ایک مقامات پر ضرورتاً حواشی کا بھی اہتمام کیا گیا ہے اور آخر میں ’’ علمیہ ‘‘ لکھا گیا ہے۔
٭…جا بجامشکل اور غیرمعروف الفاظ پر اعراب بھی لگائے گئی ہیں ۔اسی طرح اَعلام (یعنی بزرگانِ دین،روایت کرنے والوں یا دیگر کے ناموں) پر بھی اعراب کا اہتمام کیا گیا ہے۔
٭…آیات میں قرانی رسم الخط( خط عثمانی) بر قرار رکھنے کے لیے تمام آیات ایک مخصوص قرانی سافٹ وئیر سے( Corel Draw کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع