30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نصیحت کرتے ہوئے کہا کرتا ہے کہ دنیا اچھی چیز ہے ہماری زندگی اور موت میں کام آتی ہے لہٰذا اس کی حفاظت کرنی چاہیے اس پر حضرت نے فرمایا: اے میاں مبارک ایک عورت انتہائی بدصورت تھی پیٹ ڈھول کی مانند آنکھیں چوہے کی آنکھوں جیسی اور چمڑی جنگلی گوہ کی چمڑی کی طرح تھی جب اس کے لیے اور کوئی رشتہ نہ ملا توا س کے ماں باپ نے مجبور ہو کر ایک نابینا کے ساتھ اس کی شادی کردی یہ عورت شوہر کے سامنے اپنی خوبصورتی بیان کیا کرتی کہتی:میری آنکھیں ہرنی کی آنکھوں کو شرماتی ہیں میرے چہرے کے سامنے چاند کی چاندنی ماند پڑ جاتی ہے میں اتنی حسین و جمیل ہوں کہ عورتیں مجھے دیکھ کر احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتی ہیں میں سوچتی ہوں کہ آپ کس قدر خوش نصیب ہیں کہ مجھ جیسی یگانہ روزگار بیوی آپ کو میسرآ گئی ۔
ایک دن اس کے نابینا شوہر نے اسے جھڑک کر کہا: اگر واقعی تو خوبصورت ہوتی تو کسی مالدار سیٹھ کے نکاح میں ہوتی مجھ کنگال اندھے کے پلے نہ پڑتی۔
اسی طرح یہ حرافہ دنیا اندھے دنیاداروں کی نظر میں خود کو خوبصورت بنا کر پیش کرتی اور ان کو فریفتہ کرتی ہے لیکن اہلِ معرفت اس کی حقیقت کو اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں اور اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ (ملفوظات روضے دھنی)
ہست دنیا پیر زال و پُرفریب میکند پیر و جواں را ناشکیب
دنیا بوڑھی عورت فریب سے بھری ہے بوڑھے اور جوان کو بے صبر بنادیتی ہے۔
گر برافتد پردہ از روئے مجاز نفرت گیری ز زالِ حیلہ ساز
اگر دنیا کے چہرے سے پردہ اُلٹ جائے تو تواس حیلہ گر بڑھیا سے نفرت کرنے لگے۔
زِشت ِروئے اوچوں آید در نظر از خدا خواہی اماں اے بے خبر
اے بے خبر ! اگر کسی وقت تجھے اس کا (اصلی) چہرۂ بد نظر آجائے تو اسی وقت تو اللہ کی پناہ مانگ اٹھے۔
عارفاں دادند او را صد طلاق ہر کہ عاشق شد برو اُوگشت عاق
عارفوں نے اسے سو طلاقیں دے رکھی ہیں جو اس پر عاشق ہوگیا وہ اللہ کا نافرمان (باغی) بن گیا۔ (حضرت بو علی قلندررَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
حضرت مخدوم شیخ عبدالقادر الملقّب بہ شیخ عبدالقادر ثانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے نام بادشاہِ وقت نے ایک فرمان بایں مضمون جاری کیا : اگر آپ ہم کو اپنی تشریف آوری سے نوازیں تو عین سعادت ہوگی اور اس سے پہلے ہماری مجلس میں حاضر ہونے میں جتنی تقصیرات ہوئی ہیں وہ ہم نے سب کی سب معاف کر دی ہیں ، آپ نے بادشاہ کو جواب میں لکھا :
ہیچ باب ازیں باب روئے گشتن نیست ہر آنچہ بر سرِ ما مے رود مبارکباد
کسے کہ خلعت سلطانِ عشق پوشیدہ ست بحلہائے بہشتی کجا شود دلشاد
ہم ( اللہ تعالیٰ کے ) اس دروازے کو چھوڑ کر کسی کے دروازے پر نہیں جاسکتے اس کے نتیجہ میں ہم کو جو کچھ برداشت کرنا پڑے ہم خندہ پیشانی سے برداشت کریں گے( راہِ خدا میں پہنچنے والی ہر تکلیف کو اپنے حق میں مبارک سمجھیں گے) جس شخص نے سلطانِ عشق کی خلعت پہن لی ہو جنتی پوشاکوں سے بھی اس کا دل کہاں خوش ہوسکتا ہے۔ ([1]) (اخبار الاخیار)
حضرت شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے خلیفہ اجل حضرت شیخ صدر الدین حکیم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : جو لوگ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع