30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(بوعلی قلندررَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
دین اور دنیا دونوں کب ہاتھ آسکتے ہیں اے خود پرست یہ فضولیات نہ کر۔
حضرت موسیٰ کلیم اللہ عَلَیْہِ السَّلام نے ایک آدمی کو دیکھا کہ غربت و مفلسی کی وجہ سے اس کے بدن پر کوئی کپڑا نہ تھا، اپنی برہنگی چھپانے کے لیے اس نے آدھا بدن ریت میں چھپا رکھا تھا اس نے جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کو دیکھا تو عرض کی: یا نبی اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی مال و دولت عطا کرے آپ نے اس کے لیے دعا دعا فرمائی اور چلدیئے ے کچھ دنوں بعد آپ کوہِ طور پراللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہو کر واپس آرہے تھے کہ اسی شخص کو دیکھا کہ سپاہی اسے گرفتار کر کے لیے جارہے ہیں اور لوگوں کی بھیڑ تماشا دیکھنے پیچھے لگی ہوئی ہے آپ نے لوگوں سے پوچھا: اس کی یہ حالت کیوں ہے؟ لوگوں نے عرض کی: یاحضرت ! یہ شخص شراپ پی کر بدمَستی میں ایک آدمی سے لڑ پڑااور اس کو نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کردیا اب اسے قصاص کے لیے لے جارہے ہیں :
گربہء مسکیں اگر پَر داشتے تخم کنجشک از جہاں برداشتے
ہیچ کس راگِرد خود نگذاشتے ایں دو شاخِ گاؤ گرخر داشتے
مسکین بلی کو اگر پَر لگ جاتے تو دنیا میں چڑیوں کا بیج ماردیتی بیل کے دو سینگ اگر گدھے کو لگ جاتے تو وہ کسی کو اپنے قریب نہ پھٹکنے دیتا۔
عاجز! باشدکہ دست قوت یابد برخیزد و دست عاجزاں برتابد
ہوسکتا ہے کہ اگر کسی عاجز کو قوت حاصل ہوجائے تو وہ دوسرے عاجز لوگوں کے ہاتھ مروڑ کر رکھ دے۔
قَالَ اللہُ تَعَالٰی:
وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ۔([1])
اگر اللہ تعالٰیتمام بندوں کے لیے رزق کشادہ کردیتا تو وہ زمین میں فساد وسرکشی پھیلا دیتے ۔
آں کس تو نگرت نہ مے گرداند اومصلحت تو ز تو بہتر داند([2])
(گلستانِ سعد ی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ )
وہ جو تجھے تونگر نہیں بناتا، وہ تجھ سے زیادہ تیری مصلحت کو جانتا ہے۔
سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد : وہ شخص کامیاب ہوگیا جو مسلمان ہوا اور بقدرِ کفایت رزق دیا گیا اور اللہ نے اسےدیئے ے ہوئے پر قناعت دی۔([3]) (مسلم)
یعنی جسے ایمان و تقوی، بقدرِ ضرورت مال اور تھوڑے مال پر صبر، یہ چار نعمتیں ملگئیں اس پر اللہ کا بڑا ہی کرم و فضل ہوگیا وہ کامیاب رہا اور دنیا سے کامیاب گیا۔
حضرت سید محمد راشد پیر سائیں روضے دھنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے خلیفہ میاں لقمان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت روضے دھنی کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع