30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنت میں جانا عذاب جہنم کے برابر ہے۔([1])
حضرت نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بادشاہوں کے قرب کو سخت ناپسند کرتے تھے اور ان کی ملاقا ت سے بچتے رہتے تھے ایک غریب کو تو اختیار حاصل تھاکہ جس وقت چاہے آپ کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور حضرت کو اپنے جس کام کے لیے چاہے لے جائے لیکن بادشاہ کے لیے یہ اجازت نہ تھی کہ وہ بے تکلف آپ کی خدمت میں چلا جائے۔
سلطان جلال الدین ([2]) خلجی کو حضرت کی ملاقات کی بڑی تمناتھی، اس نے حاضری کی اجازت طلب کی لیکن حضرت نے سختی کے ساتھ منع کردیا امیر خسرو رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ دربار سے متعلق تھے سلطان نے ان سے کہا: مجھے کسی صورت حضرت کی زیارت سے مشرف کرادیں ، حضرت امیر خسرو نے سلطان سے وعدہ کرلیا کہ حضرت سے اجازت لیے بغیر ہی وہ کسی وقت سلطان کو حضرت کی خدمت میں لے جائیں گے بادشاہ بڑا مسرور
تھا کہ امیر خسرو کے توسط سے حضرت کی ملاقات ہوجائے گی اوردلی تمنابرآئے گی امیر خسرو نے بادشاہ سے یہ وعدہ کر تو لیا مگر پھر دل میں سوچا کہ اگر میں حضرت کی اجازت لیے بغیر بادشاہ کو ان کی خدمت میں لے گیا تو کہیں وہ خفا نہ ہوجائیں انہوں نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا ماجرا عرض کردیا، حضرت نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ یہ ماجرا سن کر اسی وقت شہر چھوڑ کر اپنے پیرومرشد کے پاس اجودھن (پاک پتن) تشریف لے گئی سلطان کو جب اس کی خبر لگی تو اس نے امیر خسرو سے باز پُرس کی امیر خسرو نے نہایت دلیری سے کہا: مجھے بادشاہ کی رنجش سے صرف جان کا خطرہ ہوسکتا ہے لیکن اگر مُرشد رنجیدہ ہوجاتے تو ایمان کاخطرہ تھا۔([3]) (سیر الاولیاء)
ایک مرتبہ سلطان شمس الدین التمش نے اپنے پیرومرشد حضرت قطب الدین بختیار کاکی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خدمت میں ایک بڑی جاگیر کی پیش کش کی اور عاجزانہ درخواست کی کہ حضور ! یہ جاگیر قبول فرمالیں آپ نے سختی کے ساتھ انکار فرمادیا اور کہا: ہمارے خواجگانِ چشت نے اس قسم کی جاگیریں قبول نہیں کیں میں کیونکر قبول کرسکتا ہوں ۔ (سیرالاولیاء)
حضرت خواجہ باقی باللہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے جب حج کی نیت سے سفر حجاز کا ارادہ کیا اوراس کی خبر بادشاہ کے وزیر عبدالرحیم خانخاناں کو ہوئی تو اس نے کئی لاکھ روپیہ آپ کی خدمت میں زادِ راہ کے لیے بطورِ نذرانہ پیش کیا اور التجا کی: مجھے امید ہے کہ حضرت اس حقیر نذرانہ کو قبول فرما کر ممنون فرمائیں گے،آپ بے حد ناراض ہوئے اور روپیہ یہ کہہ کر واپس کردیا کہ ہم فقیروں کے لیے ہرگز مناسب نہیں کہ ہم مخلوقِ خدا کی گاڑھی کمائی کا مال ضائع کر کے حج کو جائیں یہ تو رعایا کا ہی حق ہے۔ (تذکرۃ الاولیاء)
یہ چیزیں ضرورت مندوں کو دی جائیں
حضرت شیخ المشائخ بابا فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکی خدمت میں ایک بار سلطان ناصر الدین حاضرہوا اور آپ کی صحبت سے اس قدر متأثرہواکہ اپنے وزیر خاص کے ذریعہ چند مواضعات کی جاگیر اور بہت سا روپیہ بطورِ نذرانہ ارسالِ خدمت کیا آپ نے جاگیر کا فرمان
[1] یعنی اس خود دار درویش کے نزدیک کسی مالدار سے بھیک ما نگ کر کشائش و وسعت پانا اور اس کا احسان اٹھانا اتناہی تکلیف دہ ہے جتنا آگ میں جلنا۔علمیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع