30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بادشاہ عہد پنج صد تنکہ نقرہ و فرمان یکدیہہ فرستادہ است توچہ میگوئی بستائم؟
بادشاہِ وقت نے پانچ سو روپے اور ایک گاؤں کا فرمان بھیجا ہے تم کیا کہتی ہو آیا میں یہ ہدیہ لے لوں ؟
آپ کی اہلیہ محترمہ نے جواب دیا: اے خواجہ! تُوچہ میخواہی کہ فقرِ چندیں سالۂ خود را باطل کنی! تو خاطر جمع دار من دو سیر ریسماں بدستِ خود رشتہ ام ازاں مقدار جامہ خواہد شدکہ ترا فوطہ و مرا دامنے خواہد شد ۔
اے خواجہ !کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ اپنے اتنے برسوں کے فقر کو باطل کرلیں آپ خاطر جمع رکھیں میں نے دو سیر سوت اپنے ہاتھ سے کات لیا ہے جس سے آپکا تہبنداور میرا دوپٹہ بن جائے گا۔
یہ جوا ب باصواب سن کرحضرت بہت مسرور ہوئے اور کوتوال کے پاس پہنچ کر کہا: میں یہ نذرانہ قبول نہیں کرسکتاکیونکہ مجھ کو اس کی ضرورت نہیں ہے اور بِلا ضرورت کیوں لیا جائے۔([1]) (سیرالاولیاء ، انوارالفرید)
روزی کا دار و مَدار عقلمندی پر نہیں
شاہِ فارس نے ایک حکیم سے پوچھا اس کی کیا وجہ ہے کہ بعض احمق بڑے مالدار ہوتے ہیں اور عاقل عموماً محروم رہتے ہیں ؟ حکیم نے جواب دیا: صانع نے یہ چاہا کہ لوگ مجھ کو پہچانیں اس لیے کہ اگر ہر عقل مند مالدار ہوتا اور ہر احمق محروم رہتا تو ہر کوئی یہ سمجھتا کہ رز ق کا دارومدار عقل پر ہے لیکن جب لوگ معاملہ اس کے برعکس دیکھتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ رازق کوئی اور ہی ہے ظاہری اسباب کا کچھ اعتبار نہیں ۔
اگر روزی بہ دانش برفزودے ز ناداں تنگ تر روزی نہ بُودے
بہ ناداناں چناں روزی رساند کہ دانا اندراں حیراں بہ ماند
اگر روزی عقل سے بڑھ جایا کرتی تونادان سے بڑھ کر کوئی تنگ دست نہ ہوتا۔ (اللہ تبارک و تعالیٰ)نادانوں کو اس طرح سے روزی پہنچاتا ہے کہ دانا اس میں حیران رہ جاتا ہے۔
ایک درویش فقر و فاقہ کی زندگی بسر کرتا تھااور پرانے کپڑوں پر پیوند پر پیوند لگاتا تھا اور اپنے دل کو یہ کہہ کر تسکین دیتا کہ
بہ نانِ خشک قناعت کنیم و جامہ دلق کہ رنج ِ محنت ِخود بہ کہ بارِمنت ِخلق
ہم خشک روٹی پھٹے پرانے کپڑوں پر قناعت کرتے ہیں اس لیے کہ لوگوں کا بارِ احسان اٹھانے سے اپنی محنت کی تکلیف اٹھانا زیادہ بہتر ہے۔
کسی شخص نے مشورہ دیا کہ اس تکلیف میں کیوں پڑے ہو؟ اسی شہر میں فلاں آدمی بڑا سخی ہے وہ اس قدر فیاض اور رحم دل ہے کہ اگر اس کو تیری غربت کا پتہ چل جائے تو وہ خود تجھ کو اسقدر خیرات دے کہ تم خوشحال ہوجاؤ تم اس کے پاس جاؤ اور اپنی حالت بیان کرو وہ تمہیں خالی ہاتھ نہیں رہنے دے گادرویش نے جواب دیا: خاموش رہ کہ کسی کے آگے دست ِ سوال دراز کرنے سے فقرو فاقہ کی حالت میں مرجانا زیادہ بہتر ہے۔
ہم رقعہ دوختن بہ والزام کنج صبر کزبہرجامعہ رقعہ برخواجگان بنشت
حقّا کہ باعقوبت دوزخ برابرست رفتن بہ پائے مردیئے ہمسایہ دربہشت([2])
(گلستان سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
امیروں کی خدمت میں درخواست پیش کرنے سے کپڑوں میں پیوند لگاکر گزارا کرلینااور صبر پر قائم رہنا زیادہ بہتر ہے سچ تویہ ہے کہ ہمسایہ کی مدد سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع